میری والدہ

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 59 of 102

میری والدہ — Page 59

۵۹ چنانچہ جب تک ان کی اپیل کا فیصلہ نہ ہوا۔اُن کے لئے دعا کرتی رہیں اور نتیجہ یہ ہوا کہ اُن کی اپیل کا فیصلہ عین والدہ صاحبہ کی خواہش کے مطابق ہو گیا۔جب والدہ صاحبہ نے یہ سنا تو بہت خوش ہوئیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان غریبوں پر رحم فرمایا۔بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی اور رحم کا جذ بہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بہت وافر عطا فر مایا تھا۔اکثر فرمایا کرتی تھیں کہ اللہ تعالیٰ اگر دشمن نہ ہو تو کوئی دشمن کیا بگاڑسکتا ہے اور میں تو اس لحاظ سے کسی کو دشمن سمجھتی ہی نہیں۔دشمنوں کے ساتھ حسن سلوک کے برہ میں کہا کرتی تھیں کہ جس سے دل خوش ہو اس کے ساتھ حسن سلوک کیلئے تو خود ہی دل چاہتا ہے۔اس میں ثواب کی کونسی بات ہے۔اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے کے لئے تو انسان کو چاہئے کہ ان لوگوں سے بھی احسان اور نیکی سے پیش آئے جن پر دل راضی نہ ہو۔ڈسکہ کے لوگوں کے ساتھ والدہ صاحبہ کا سلوک ہمیشہ بہت فیاضانہ اور غریب پروری کا ہو ا کرتا تھا اور باوجود اختلاف مذہب و عقائد کے وہاں کے لوگ غیر مسلم اور غیر احمدی سب اُن کو بہت عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔لیکن جب احرار کا فتنہ اُٹھا تو آہستہ آہستہ ہمارے گاؤں کے غیر احمدی بھی اس سے متاثر ہو گئے اور مختلف طریق سے احمدیوں کو دُکھ دینے لگے۔ہمارے خاندان کے بعض افراد کو خصوصیت سے ایذاد ہی کا نشانہ بنایا گیا۔والدہ صاحبہ کو قدرتی طور پر ان واقعات سے رنج پہنچتا تھا۔لیکن اُن کے نتیجہ میں اُن کے حُسن سلوک میں کمی نہ آتی تھی۔اگر ہمارے آدمیوں میں سے کوئی اس قسم کا اشارہ بھی کرتا کہ یہ لوگ تو ہمارے دشمن ہیں۔آپ ان سے ایسا سلوک کیوں کرتی ہیں۔تو وہ اس کو بُرا منایا کرتیں اور ہمیشہ یہی جواب دیا کرتیں کہ جس کا اللہ دشمن نہ ہو