میری والدہ — Page 61
قبل اسی کسان کی ایک بھینس کنویں میں گر کر مر گئی تھی۔یہ بھی مفلس آدمی تھا اور یہ مویشی ہی اُس کی پونجی تھے۔والدہ صاحبہ ان دنوں ڈسکہ ہی میں مقیم تھیں۔جب انہیں اس واقعہ کی خبر پہنچی تو بے تاب ہو گئیں۔بار بار کہتیں۔آج اس بیچارے کے گھر میں ماتم کی صورت ہوگی۔اُس کا ذریعہ معاش جاتا رہا۔اُس کے بیوی بچے کس امید پر جیں گے۔جب اس کے لڑکے کے ہاتھ سے قارق نے بچھڑی کی رہی لے لی ہوگی تو اس کے دل پر کیا گزری ہوگی ! پھر دُعا میں لگ گئیں کہ یا اللہ تو مجھے تو فیق عطا کر کہ میں اس مسکین کی اور اس کے بیوی بچوں کی اس مصیبت میں مدد کر سکوں۔میاں جہاں کو بلایا ( یہ تین پشت سے ہماری اراضیات کے منتظم چلے آتے ہیں ؟ اور کہا آج یہ واقعہ ہو گیا ہے۔تم ابھی ساہوکار کو بلا کر لاؤ۔میں اُس کے ساتھ اس شخص کے قرضہ کا تصفیہ کروں گئی اور ادائیگی کا انتظام کرونگی۔تا شام سے پہلے پہلے اس کے مویشی اُسے واپس مل جائیں اور اُس کے بیوی بچوں کے دلوں کی ڈھارس بندھے۔میاں جہاں نے کہا میں تو ایسانہ کروں گا۔یہ شخص ہمارا مخالف ہے۔ہمارے دشمنوں کے ساتھ شامل ہے۔والدہ صاحبہ نے خفی سے کہا: تم مل جولاہ کے بیٹے ہو اور میں چوہدری سکندر خاں کی بہو اور چوہدری نصر اللہ خان کی بیوی اور ظفر اللہ خاں کی ماں ہوں اور میں تمہیں خدا کے نام پر ایک بات کہتی ہوں اور تم کہتے ہو میں نہیں کروں گا، تمہاری کیا حیثیت ہے کہ تم انکار کرو۔جاؤ جو میں حکم دیتی ہوں فورا کرو اور یاد رکھوسا ہو کار کو کچھ سکھانا پڑھانا نہیں کہ تصفیہ میں کوئی دقت ہو۔جب مجھ سے یہ واقعہ بیان کیا تو فرمایا ظہر کا وقت ہو چکا تھا۔میں نے نماز میں پھر بہت دعا کی کہ یا اللہ میں ایک عاجز عورت ہوں۔تو ہی اس موقعہ پر میری مددفرما