میری والدہ

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 37 of 102

میری والدہ — Page 37

۳۷ ہندوستان اور انگلستان کے درمیان ڈاک کے آنے جانے میں بھی ایک ہفتہ کا وقفہ بڑھ گیا۔والدہ صاحبہ پہلے تو جنگ کی خبروں سے ہی گھبرائی ہوئی تھیں۔جب ڈاک میں توقف ہو جانے کی خبر سنی تو غش کھا کر گر گئیں۔والد صاحب پہلے ہی اُن کے احساسات کا بہت خیال رکھتے تھے اور انہیں تسلی دیتے رہتے تھے۔لیکن اب اور بھی زیادہ احتیاط کرنے لگے۔فرمایا کرتے تھے کہ جنگ کے شروع ہو جانے سے لے کر تمہاری واپسی تک تین مہینہ کا عرصہ میرے لئے پہلے تین سالوں سے بڑھ کر مشکل ہو گیا۔تمہاری والدہ کی بیقراری کو دیکھ کر مجھے یوں محسوس ہوتا تھا کہ گویا تمہیں انگلستان بھیجنے میں میں کسی جرم کا مرتکب ہو ا ہوں۔آخر اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے تمہیں بخیریت واپس لے آیا۔تو تمہاری والدہ کی جان میں جان آئی اور میری جان بخشی ہوئی۔میری ولایت سے واپسی خاکسار شروع نومبر 1910 ء میں وائیس ہندوستان پہنچا۔پہلے دارالامان حاضر ہو کر تحریری بیعت کی زبان سے تصدیق کی اور حضرت خلیفہ اسیح کی زیارت سے مشرف ہوکر سیالکوٹ پہنچا۔جنگ کی وجہ سے ان دنوں بحری رستے محفوظ نہیں تھے۔اس لئے خاکسار نے والد صاحب کی خدمت میں صرف اس قدر اطلاع ارسال کی تھی کہ خاکسار عنقریب واپس پہنچنے والا ہے۔کسی خاص تاریخ کی اطلاع نہیں دی تھی۔خاکسار کے لاہور پہنچنے کے بعد والد صاحب کو اطلاع مل گئی تھی کہ خاکسار بخیریت واپس پہنچ گیا۔یہ خبر سنتے ہی والدہ صاحبہ ماموں صاحب اور عزیز شکر اللہ خاں کو ساتھ لے کر سیالکوٹ سے وزیر آباد پہنچ گئیں تا کہ رستہ ہی میں خاکسار کومل جائیں۔لیکن ایک