میری والدہ

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 36 of 102

میری والدہ — Page 36

دروازے کو بہت زور سے کھٹکھٹایا۔جس سے تمہارے والد کو ادھر توجہ ہوئی اور وہ جلدی اور گھبراہٹ میں اوپر آئے اور بہت تشویش میں دریافت کیا کہ کیا معاملہ ہے۔آپ نے اتنے زور سے دروازہ کیوں کھٹکھٹایا ؟ میں نے جواب دیا کہ میں آپ کے تامل سے بہت گھبرا گئی ہوں اور میں چاہتی ہوں کہ آپ جلد بیعت کرنے کا فیصلہ کریں اور ان بحثوں کو بند کریں اور منکرین خلافت کو کہہ دیں کہ وہ بحث مباحثہ کے لئے یہاں نہ آیا کریں۔اُنہوں نے مجھے تسلی دینے کی کوشش کی کہ میں غور کر رہا ہوں عنقریب کوئی فیصلہ کروں گا۔لیکن مجھے تسلی کہاں ہوتی تھی۔ہر لحظہ جو اس حالت میں گزرتا مجھے پہاڑ کی طرح بو جھل معلوم ہوتا تھا۔اسی طرح چند دن اور گزر گئے۔میں دعاؤں میں لگی رہی اور اپنی توفیق کے مطابق تمہارے والد کو سمجھانے کی کوشش بھی کرتی رہی۔وہ بس مسکرا دیتے اور اتنا کہہ دیتے کہ غور کر رہا ہوں۔میں پھر دعاؤں میں لگ جاتی۔آخر ایک روز عشاء کی نماز کے بعد اُنہوں نے کہا۔میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ مجھے بیعت کر لینی چاہئے۔مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میرے لئے تمام دنیا روشن ہوگئی ہے۔میں نے فورا اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور اُن سے کہا کہ آپ ابھی خط لکھ دیں۔انہوں نے کہا۔ڈاک تو اب کل صبح ہی جائے گی صبح خط لکھ دیں گے۔میں نے منت کی کہ ابھی لکھ دیں۔دیر نہ کریں۔انہوں نے کہا کہ کیا خط کو سینہ پر رکھ کر سونا ہے؟ میں نے جواب دیا کہ اصل بات تو یہی ہے۔میں یہ تمام راتیں سو نہیں سکی۔میں چاہتی ہوں کہ آپ بیعت کا خط لکھدیں اور میں اُسے اپنے سینہ پر رکھ لوں اور اطمینان کی نیند سو سکوں۔چنانچہ انہوں نے اُسی وقت خط لکھ کر مجھے دیدیا اور میں نے اُسے سینہ پر رکھ لیا اور سوگئی اور صبح ہوتے ہی میں نے ڈاک میں بھجوا دیا۔خاکسار بھی تعلیم کے سلسلہ میں انگلستان ہی میں مقیم تھا کہ آخر جولائی 1914ء میں یورپ میں جنگ چھڑ گئی اور شروع اگست میں انگلستان بھی جنگ میں شامل ہو گیا۔جنگ کی وجہ سے آمد و رفت کے سلسلہ میں بعض رکاوٹیں پیدا ہو گئیں اور