میری والدہ

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 38 of 102

میری والدہ — Page 38

۳۸ رات وہاں انتظار کرنے کے بعد ماموں صاحب کو وہاں چھوڑ کر خود عزیز شکر اللہ خاں کے ساتھ واپس سیالکوٹ چلی گئیں۔کیونکہ خاکسار کے آنے کی کوئی پختہ خبر انہیں نہ مل سکی۔خاکسار بھی چند گھنٹوں کے بعد اُن کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔۱ دسمبر ۱۹۱۴ ء سے لے کر اگست ۱۹۱۶ ء تک خاکسار نے والد صاحب کے ساتھ سیالکوٹ میں وکالت کی پریکٹس کی۔اگست 1913ء میں خاکسار رسالہ انڈین کیسز کے اسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر لاہور چلا گیا اور جوں جوں وقت گزرتا گیا۔وہاں ہائیکورٹ میں پریکٹس کے مواقع بھی خاکسار کو میسر آتے گئے۔حتی کہ کچھ عرصہ کے بعد خاکسار کا زیادہ وقت ہائیکورٹ کے کام میں صرف ہونے لگا۔قادیان میں والد صاحب کی رہائش اپریل 1915ء میں والد صاحب نے وکالت کی پریکٹس ترک کر دی اور چند ماہ بعد اُنہوں نے قادیان میں مستقل رہائش اختیار کر لی۔۱۹۰۵ء میں جب وہ پہلی دفعہ قادیان حاضر ہوئے تھے تو انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں عرض کی تھی کہ اگر حضور پسند فرما ئیں۔تو میں وکالت کی پریکٹس ترک کر کے اپنا تمام وقت دین کی خدمت میں صرف کروں۔لیکن حضور نے فرمایا کہ آپ پریکٹس جاری رکھیں۔اسی طرح حضور کے وصال کے بعد والد صاحب نے حضرت خلیفہ المسیح اول رضی اللہ عنہ کی خدمت میں عرض کی تھی۔لیکن آپ نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جیسے فرمایا تھا ویسے ہی کریں۔خلافت ثانیہ کا عہد شروع ہونے کے کچھ عرصہ بعد حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ نے والد صاحب سے فرمایا کہ آپ دین کی خدمت کے لئے اپنے تئیں کب وقف کریں گے؟ والد صاحب نے عرض کی کہ میں تو حاضر ہوں۔جب حضور حکم دیں وکالت ترک کر کے حضور کی خدمت میں آجاؤں۔