میری پونجی — Page 86
، عاصی، گنہ گار، نابکار جانتا ہوں۔آپ کے حسن ظن کا ممنون ہوں۔جزاکم اللہ خیرا ! اللہ تعالیٰ آپ کا حافظ ناصر ہو۔آمین۔“ والسلام خاکسار ظفر اللہ خان حضرت ملک غلام فرید صاحب والد بزرگوار سردار صاحب کے پرانے رفقاء میں سے تھے۔بہت قریب کے تعلق دار تھے۔انگلستان میں ایک ساتھ خدمت اسلام کی سعادت پائی۔حضرت ملک صاحب اپنے ایک خط مورخہ 18 نومبر 1973ء میں اپنی صحت کے بارے میں محترم اباجی سردار صاحب کو لکھتے ہیں : ”میرے بھائی موت کتنی آسان ہو گئی ہے۔میری عمر 76 سال ہوگئی ہے اور میں کئی عوارض کا شکار ہوں۔شنوائی کم ، بائیں آنکھ سے پانی اتر رہا ہے، دانتوں میں سخت درد ہوتا ہے، سر میں چکر آتے رہتے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ شیخ بشیر احمد صاحب کے مکان تک جاتے ہوئے راستہ میں تین بار ٹھہر نا پڑتا ہے۔ٹانگیں جواب دے رہی ہیں۔کیا آپ میرے لیے دعا نہیں کرینگے؟ اللہ کریم اگلے جہان میں بھی ہماری جوڑی کو سلامت رکھے۔خاکسار غلام فرید ملک نوٹ: اسی خط میں انہوں نے 1924ء میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے قافلہ کے ممبران، انگلستان کے مبلغین اور بیرون انگلستان کے شرکا مبلغین کی نام، بنام تفصیل لکھی ہے۔(86)