میری پونجی — Page 85
کہ تیرے آگے کوئی چیز انہونی نہیں۔تیری تو شان ہے۔ہر چه خواهد میکند عجزش که دید غرض آپ کے والا نامے کے جواب میں ذرا پردہ عجز ونیاز کی کیفیت سے سرکا دیا ہے۔ورنہ من آنم کہ من دانم۔اللہ تعالیٰ ہم سب پر رحم فرمائے اور جو مہلت باقی ہے اسے اپنی رضا کے مطابق صرف کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور خاتمہ بالخیر کرے۔آمین! خاکسار ظفر اللہ خان 19/فروری1980ءکو لکھتے ہیں : مکرم سردار صاحب! آپ کے دونوں والا نامے شرف صدور لائے۔جزاکم اللہ۔یہ عاجز جانتا ہے کہ چنیوٹ کوئی اتنا بڑا شہر نہیں اور آپ ایک معروف ہستی ہیں۔جب خاکسار خط و کتابت کے قابل تھا آپ کے پتے کی دریافت کی حاجت نہ تھی۔مصباح منزل لکھنے کے بغیر بھی عریضہ آپ کی خدمت میں فجر باریابی حاصل کر لیتا تھا۔آپ کے پہلے والا نامے کے جواب میں تاخیر کی وجہ آپکے پستہ سے ناواقفیت نہیں تھی۔صورت حال یہ ہے کہ کچھ عرصہ سے خاکسار کے طبی مشیر نے ہاتھ سے لکھنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔آپ کے شکوے کے بعد خاکسار طبی ہدایت کو پس پشت ڈال کر حاضر خدمت ہو گیا ہے۔باقی رہا آپ کے پہلے والا نامے کا فلسفیانہ حصہ۔خاکسار کو فلسفے کے ساتھ مس نہیں نہ رغبت ہے۔یہی کافی ہے کہ بوجوہ آپ کی دینی خدمات کے آپ کا احترام کرتا ہوں۔باوجود طبی تنبیہ کے یہ تحریر اس کا ثبوت ہے اور اپنے تئیں بیچ (85)