میری پونجی — Page 87
مورخہ 5 نومبر 1973ء کے خط میں لکھتے ہیں: آپکا محبت نامہ ملا۔جزاکم اللہ احسن الجزاء۔خط کیا تھا قر طاس پر موتی بکھرے ہوئے ہوتے ہیں۔میں سخت پریشان رہتا ہوں آپ کے خط سے کچھ تسلی ہوئی۔اللہ آپ کا بھلا کرے یہ اللہ کا بڑا ہی مجھ پر فضل ہے کہ اس نے مجھے ایسے نیک ایسے ہمدرد ایسے دعا گو احباب عطاء فرمائے ہیں یہ بہت بڑی دولت ہے۔آپ کا پہلا خط جو ہر شخص کے پڑھنے کے قابل ہے اور جس کو پڑھنے کی خصوصاً ان احباب کو خاص ضرورت ہے جو حضرت مسیح موعود کے مقام کے متعلق موشگافیاں کرتے رہتے ہیں اور خود الجھنوں میں رہتے ہیں اور دوسروں کو رکھتے ہیں۔خاکسار غلام فرید ملک وہ ایک وقت میں اپنے بیٹے کے پاس حیدر آباد (سندھ) میں تھے۔وہاں سے لکھتے ہیں: سردار صاحب میرے بھائی ! اپنی جماعت ، اللہ کے مسیح کی جماعت کی بے بسی کی یہ حالت دیکھ کر اور اخبارات میں پڑھ کر اللہ کے حضور روتا ہوں۔مسیح کی روح جنت میں کتنی بے قرار ہوگی اور متی نصر اللہ متی نصر اللہ پکارتی ہوگی۔اپنی بیماری ، اپنے بیٹے اور اہلیہ ( کی بیماری) نے معذور کر رکھا ہے۔آپ تو میرے پیارے محترم ہیں، اللہ کے حضور دعا کرنے والے، رونے والے بھائی ہیں۔خدارا! جہاں جماعت کے لیے دعا کرتے ہیں میرے اور میرے عزیزوں کیلئے بھی دعا کریں۔مولانا جلیل صاحب کو میرا سلام کہئے اور دعا کیلئے عرض کریں۔ربوہ کے حالات سے مفصل اطلاع دیں میں یہاں جنگل میں پڑا ہوں۔خاکسار غلام فرید ملک“ (87)