میری پونجی — Page 84
حضرت چودھری صاحب اور کیفیت عجز و نیاز 16/ جون 1971ء کو حضرت چوہدری صاحب ہیگ سے لکھتے ہیں : مکرمی سردار صاحب آپکا والا نامہ مورخہ یکم جون شرف صدور لا یا۔جزاکم اللہ۔میرے ایک بھائی نے اپنی تکلیف کے وقت میں لکھا میرے لیے دعا کرو۔اللہ تعالی میرے حال پر رحم فرمائے اور میری بینائی درست فرمائے۔انکے درد سے اس عاجز کا دل بھی پر درد ہوا، اور بارگاہ الہی میں التجا شروع کی: اے ارحم الرحمن ! تو نے فرمایا ہے ادعونی استجب لکم۔یہ تیرا ایک بندہ لاچار اور عاجز ہے یہاں تک کہ اس نے ایک میرے جیسے نابکار سے بھی کہا۔میری تکلیف بہت بڑھ گئی ہے تم بھی میرے لیے دعا کرو۔اے اللہ! یہ اس کا اس عاجز پر احسان ہے اور حسن ظن ہے۔تیرے فضلوں کی حد نہیں تو اپنے محسن اور متقی بندوں کی فریاد کے ساتھ اس عاجز کی فریاد بھی سن اور اسے قبول فرما کر اپنے اس دردمند عاجز بندے کے دکھ دور فرما اور اسے بینائی بخش اور اندھیروں سے نکال کر نور میں داخل کر “ جب انہوں نے اطلاع دی کہ آپریشن بفضل تعالیٰ کامیاب ہو گیا ہے تو میرے دل کی وہ کیفیت ہوئی جس کا کچھ پر تو اس عریضہ میں ہے جو میں نے ان کی خدمت میں لکھا: "سبحان الله وبحمده سبحان الله العظیم۔اس خاکسار کو ان کے آپ کے ساتھ رشتے کا علم نہیں تھا لیکن اخوت دینی کا رشتہ تو تھا اور اخوت انسانی کا رشتہ بھی ہوا۔اب آپ کے والا نامہ کے ساتھ اُن کا والا نامہ بھی ملا ہے کہ عینک کے معاملہ میں کچھ اندیشے کی صورت ہے اور میرا دل اس خبر سے خائف و ترساں ہے۔میں پھر کمال عاجزی اور تزلزل سے دہلیز پر گرا ہوں۔یا ارحم الراحمین! تو نے اپنے عاجز بندے کے دل میں جو جھلک امید اور خوشی کی پیدا کی ہے اسے اپنے لطف و احسان سے روشن فرما (84)