میری پونجی — Page 64
میری یونجی احمدیت کی رہنمائی کر دیا کرتے۔مثلا و میلے کا نفرنس کے موقع پر لیے گئے حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے ساتھ گروپ فوٹو میں شامل احباب کی نام بنام پہچان انہی کے بس میں تھا۔اسی طرح مولانا ابوالمنیر صاحب جو لمبے عرصہ تک تصنیف کے کاموں سے منسلک رہ کر خدمات بجالاتے رہے وہ بھی ان کی یادداشتوں سے استفادہ فرمایا کرتے تھے۔مولانا صاحب بھی ان کے شاگردوں میں سے تھے اور ہمیشہ انکے لیے عزت و احترام کے جذبات رکھتے تھے۔همی جہاد ریویو آف ریلیجنز میں ان کے رشحات قلم شامل ہیں۔خاص طور پر 1928ء کی اشاعت میں ان کے شذرات کا کالم باقاعدگی سے چھپتا رہا۔اس کے علاوہ انہوں نے اپنے ہمعصر دانشوروں سے قلمی جہادکا سلسلہ جاری رکھا۔جس کسی نے بھی احمدیت کی مخالفت میں قلم اٹھا یا وہ ان کے قلم کی زد سے نہ بچ سکا۔مخالفین کے نظریات کے جوابات کو احمدیت کے اعتقادات ،قرآنی دلائل اور برہان سے سجا کر قلمی جہاد کی نذر کرتے چلے جانا یہ ان کی عادت میں شامل تھا۔ان کے قلمی معرکوں میں مولانا مودودی صاحب کا نام بھی شامل ہے۔جنہوں نے ایک مرتبہ تحریری معذرت کر لی تھی کہ میں آپ سے کسی قسم کی بحث میں نہیں الجھنا چاہتا۔اسی طرح ایک موقع پر جناب جسٹس قدیر الدین احمد صاحب نے اخبار جنگ میں ایک عالمانہ مضمون آنحضرت سلیم بحیثیت تکمیل مظہر نبوت ورسالت کے عنوان سے شائع کروایا۔محترم سردار صاحب نے یہ مضمون ذوق اور جذبہ سے پڑھا اور اس پر تقریباً سو صفحات پر مشتمل نہایت جامع تبصرہ لکھا ( اس کا مسودہ مرتب کے پاس محفوظ ہے) اس کا جواب دراصل جسٹس صاحب کے متعلق ان کے اظہار خیال پر مبنی تھا اور یہی حصہ اس تفصیل وضاحت کا موجب بھی بنا۔محترم سردار صاحب نے جسٹس صاحب سے مخاطب ہوتے ہوئے جو انداز تحریر اپنا یا ، اس کی ایک جھلک ملاحظہ فرمائیں۔لکھتے ہیں کہ : (64)