میری پونجی — Page 65
" رسول کریم صلی یا ستم کی شان ارفع و اعلیٰ کے متعلق ایک دہقان بھی حب رسول الی ایم کے جذبہ سے کچھ زبان پر لائے تو بھی محاسن نبوی سیا ہی ہم سے معمور ہوتا ہے۔جب ایک معیاری عالمانہ علم و عرفان سے شان رسول ملالہ تم پر اظہار کر رگا تو یقیناوہ شان ارفع رسول کریم صلی ا یتیم کا مظہر ہی ہوگا۔ہاں اپنا تاثر یہ ہے کہ جو کچھ آپ کے قلم اور زبان سے نکلا ہے ذہنی کاوش کی دریافت نہیں ہے۔یہ حاصل تدبر فی القرآن ہے۔اس تمہید کے بعد احمدیت کے سو سالہ تاریخ کے دوران ملاؤں کے غیظ وغضب بھری قلم و زبان نے جو مسلسل زہر اگلا ، اس کے حوالہ سے جماعت احمدیہ کے مؤقف کو قرآنی معارف اور احادیث کی روشنی میں بالوضاحت پیش کر کے حضرت سردار صاحب نے پاکستان کی عدالت عالیہ تک سید نا حضرت اقدس مسیح موعود کا پیغام پہنچا کر حجت تمام فرمائی۔اسی عریضہ میں آگے چل کر خلافت علی منہاج نبوت کے ذکر میں حضرت اقدس مسیح موعود کی متابعت میں جسٹس صاحب کو پر شوکت الفاظ میں لکھتے ہیں کہ ہم حضرت اقدس مسیح موعود کی خلافت کو علی منہاج نبوت ہی مانتے ہیں اور اس خلافت کے ظہور میں آج نوے ( بوقت تحریر ) برس کا عرصہ ہمارے سامنے گزر چکا ہے۔اس عرصہ میں اس خلافت کے ظہور میں آنے کی منہاج اور مساعی جمیلہ کی شان ، اسکے ثمرات اور اثرات جو ہمارے سامنے آچکے ہیں وہ اس امر پر برہان بر ہنہ ومبینہ ہیں کہ یہی خلافت علی منہاج نبوت جس کا ذکر حدیث میں بزبان نبوی صلی یا پیام ہوا۔اس خلافت کی نوے سالہ تاریخ کے سامنے ہوتے ہوئے کوئی بھی سلیم الطبع ، ذرہ بھر بھی تو دل میں شبہ نہیں لا سکتا کہ یہی وہ خلافت علی منہاج نبوت ہے جس کا امت کی عمر میں بزبان نبوی سالی یہ تم پانچویں دور پر شروع ہونے کا ذکر ہوا ہے۔ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است !“ (65)