میری پونجی — Page 63
کے ساتھ اس سفر میں چودھری ظہور احمد صاحب سابق ناظر دیوان صدرانجمن احمد یہ ربوہ بھی تشریف لائے ہوئے تھے۔انہوں نے اس عاجز ( بشیر الدین سامی ) کو بتایا کہ سردار صاحب ایک روزلنڈن مشن ہاؤس اسوقت تشریف لائے جبکہ عمومی طور پر حضور سے ملاقات کا وقت نہیں ہوتا تھا، محترم سردار صاحب نے صاحبزادہ میاں انس احمد صاحب سے کہا کہ حضور سے ملنا ہے۔میاں انس صاحب نے معذرت کر دی کہ اس وقت ملاقات نہیں ہو سکتی۔چودھری صاحب نے بتایا کہ میاں صاحب کی بات پورے طور پر ان کے کان تک نہیں پہنچی تھی کہ میں نے میاں صاحب کو فور اُردو کا کہ میاں یہ کیا کر رہے ہو یہ تو اگلے وقت کے لوگ ہیں یہ اس طرح کی پابندیوں سے نہیں ملا کرتے۔محترم سردار صاحب کو ابھی لے جاؤ۔دوسری بات جو انہوں نے خاص طور پر بیان کی وہ یہ کہ کانفرنس کے موقع پر جو انگلش فلمساز مقرر تھا تو اس نے خاص طور پر استفسار کیا کہ His Holinass کے علاوہ سفید پگڑی میں کون بزرگ تھے جو سر محمد ظفر اللہ خان سے بھی بڑی عقیدت سے ملے اور ہنر ہولینس کے ساتھ تو ملتے ہوئے بہت عقیدت سے جھکے ہوئے اور ہاتھ چومتے ہوئے اس فلم میں ریکارڈ ہوئے ہیں۔حضرت چوہدری صاحب نے بتایا کہ میں نے محترم سردار صاحب کا تعارف پیش کرتے ہوئے اسے بتایا کہ یہ ۱۹۲۴ء میں اس مشن ہاؤس میں مبلغ تھے اور یہ میرے استاد بھی رہے ہیں۔یاد داشت والد بزرگوار سردار صاحب کو اللہ تعالیٰ نے ایسا حافظہ عطا فرمایا تھا کہ جو کچھ انہوں نے بزرگوں سے سنا اپنی آنکھوں سے دیکھا وہ بشریت کی امکانی حد تک انکے حافظہ میں محفوظ تھا۔اس لیے جو بھی وہ لکھتے تھے یا بیان فرماتے تھے ان میں واقعاتی تسلسل ہوتا تھا۔کہیں بھی حقیقت سے ہٹ کر انہیں روانی کو قائم رکھنے کیلئے ادھر اُدھر سے الفاظ شامل نہیں کرنے پڑتے تھے۔اُن کی تحریر میں یہ وصف ہر جگہ نمایاں ہے۔تاریخ احمدیت کے شروع کے ادوار کے تذکروں کیلئے مکرم سردار صاحب کی یاداشتیں ایک سند تھیں۔اہم واقعات، روایات شخصیات اور مناظر کو محفوظ کرنے میں اکثر مورخ (63)