میری پونجی — Page 32
کیا ہی خوش نصیبی تھی کہ جلد ہی اس جذبہ کے پورا ہو جانے کی خوشی بھی میسر آ گئی۔جیسے کام کرنے والی عمر کو پہنچا جماعت کے خادمین دین کے دستہ میں شامل ہونے کی سعادت بھی پالی، ثم الحمد للہ۔اس تحریک میں نام تو کئی دوستوں نے پیش کیے تھے مگر جس دستے کو ضروری تربیت دیکر جلد کام پر لگانا مقصود تھا، وہ کوئی درجن کے قریب تھے۔یعنی حکیم فضل الرحمن صاحب، شیخ محمود احمد صاحب عرفانی، ممتاز علی صاحب، فرزند اکبر مولوی فرزند علی صاحب گوہر، شیخ یوسف علی صاحب سابق پرائیویٹ سیکرٹری ، صوفی عبد القدیر صاحب سابق مبلغ انگلستان ، مولوی رحمت علی صاحب سابق مبلغ انڈونیشیا، ملک غلام فرید صاحب سابق مبلغ انگلستان ، صوفی محمد ابراہیم صاحب سابق ہیڈ ماسٹر تعلیم الاسلام ہائی سکول ،صوفی غلام محمد صاحب سابق وکیل المال تحریک جدید، ابوالعاصم صاحب ( برادر خورد چودھری ابوالہاشم صاحب)، بھائی وزیر محمد صاحب پٹیالوی، ماسٹر محمد حسن صاحب تاج، سردار مصباح الدین صاحب سابق مبلغ انگلستان۔اس فہرست میں ایک اور نام خاص اہتمام سے ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں : اس فہرست میں ایک اور نام بھی شامل ہے گو وہ ان دنوں قادیان سے باہر تھے اور قادیان کے فراق میں اُنہوں نے ایک نظم لکھی تھی جس کا ایک مصرع یہ تھا۔کوئی لے چلے مجھے قادیاں احمد یہ گلی کوچوں اور مجالس میں یہ نظم بڑے وجد کے ساتھ پڑھی جاتی تھی۔اس رفیق کا نام تھا مولوی عبدالرحیم صاحب درد۔ایک عرصہ بعد جب قادیان آئے تو آتے ہی شعبہ تبلیغ کے منصرم مقرر ہوئے۔حضرت خلیفہ امسیح الثانی نے وقف زندگی کی اس پہلی تحریک پر فوری لبیک کہنے والے طلباء کا انتخاب فرمایا اور ہماری کلاس بنادی جس میں ہمیںتعلیمی تربیتی اور تبلیلی علوم دینے شروع کر دیئے۔دو چار اسباق کے بعد حضرت خلیفہ مسیح الثانی نے (خاکسار ) سردار مصباح الدین اور مولوی حکیم فضل الرحمن صاحب کو دوسرے طلباء سے مستی کر کے فرمایا کہ تم دونوں کو تو میں جلد ہی کام پر لگانا چاہتا (32)