میری پونجی

by Other Authors

Page 31 of 340

میری پونجی — Page 31

حضرت خلیفتہ استیج اول نور الدین کی مجالس درس القرآن سے بھی فیض پانے لگے۔اسکول میں حضرت خلیفہ اسیج اول کے صاحبزادے میاں عبد ائی کے ہم مکتب ہوئے اور رفتہ رفتہ یہ تعلق گہری دوستی میں بدل گیا۔اسی ناطے حضرت خلیفہ اسی اول کے گھر آنا جانا روز مرہ کا معمول بن گیا اور حضرت خلیفہ اسیح اول اور حضرت اماں جی کی اس قدر شفقت کے زیر سایہ آگئے کہ انہوں نے انہیں اپنے بیٹے کا شرف عطا فرمایا۔کئی بارانہیں ایسی سعادت بھی حاصل ہوئی کہ حضور جب درس کیلئے مسجد اقصیٰ تشریف لیجاتے تو قرآن پاک اٹھا کر ساتھ چلتے۔غرضیکہ حضرت خلیفہ اسیح اول کی شفقت کی نظر تا حیات رہی جسے آپ کے بعد بھی آپ کی اولاد نے نبھایا اور اس روحانی تعلق کو قائم رکھا۔عجیب اتفاق تھا جب 1947ء میں ہجرت قادیان کا وقت آیا تو خطرات کے پیش نظر انہیں اپنے گھر واقع بادیاں سے نکل کر قادیان حضرت خلیفتہ المسیح اول کے مکان میں ہی منتقل ہونا پڑا جہاں سے پھر انہوں نے پاکستان کے لیے ہجرت فرمائی۔ربوہ میں بھی حضرت اماں جی سے جب ملنے جاتے تو وہ اپنے بچے کی طرح کمال شفقت سے ان کے سر پر ہاتھ پھیر تیں اور کچھ نقدی بھی ان کے ہاتھ پر رکھ دیتیں۔حضرت اماں جی صغری بیگم " حرم حضرت خلیفہ اسیح اول کی وفات 6/7 اگست 1955 ء کی درمیانی شب کو ہوئی اور جنازہ گھر سے اٹھایا گیا تو انکی چار پائی کو ان کے بیٹوں کے ساتھ حضرت سردار صاحب کندھا دے کر باہر لائے۔د و رخلافت ثانیه 1914ء میں جب حضرت خلیفہ امسیح اول کی وفات ہوئی تو حضرت سردار صاحب ابھی عہد طالب علمی میں سے گزر رہے تھے اور اسکول کی ہائی کلاس تک پہنچے تھے۔وہ بیان کرتے ہیں کہ 1915ء میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے خطبہ جمعہ میں خدمت دین کے لیے زندگی وقف کرنے کی تحریک فرمائی۔اس پر سکول کے کئی ساتھیوں نے تحریک پر لبیک کہنے کی سعادت پائی۔یوں عہد شعور کی نکلی ہوئی وہ معصومانہ دعا جوذ وق شوق سے دل سے اٹھی تھی بارگاہ ایزدی میں قبولیت پاگئی اور (31)