میری پونجی — Page 337
محبتوں کے نصیب کلام حضرت مرزا طاہر احمد صاحب خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ میرے درد کی جو دوا کرے، کوئی ایسا شخص ہوا کرے وہ جو بے پناہ اُداس ہو، مگر ہجر کا نہ گلہ کرے مری چاہتیں مری قربتیں جسے یاد آئیں قدم قدم تو وہ سب سے چھپ کے لباس شب میں ، لپٹ کے آہ و بکا کرے بڑھے اُسکا غم تو قرار کھودے، وہ میرے غم کے خیال سے اُٹھیں ہاتھ اپنے لئے تو پھر بھی میرے لئے ہی دعا کرے قصص عجیب و غریب ہیں، یہ محبتوں کے نصیب ہیں مجھے کیسے خود سے جدا کرے، اُسے کچھ بتاؤ کہ کیا کرے طے کرے یونہی سوچ سوچ میں وہ فراق کے فاصلے میرے پیچھے آ کے دبے دبے، میری آنکھیں موند ہنسا کرے بڑا شور ہے میرے شہر میں کسی اجنبی کے نزول کا وہ میری ہی جان نہ ہو کہیں، کوئی کچھ تو جا کے پتہ کرے یہ تو میرے دل ہی کا عکس ہے، میں نہیں ہوں پر مری آرزو کو جنون ہے مجھے یہ بنا دے تو پھر جو چاہے قضا کرے بھلا کیسے اپنے ہی عکس کو، میں رفیق جان بنا سکوں کوئی اور ہو تو بتا تو دے، کوئی ہے کہیں تو صدا کرے اُسے ڈھونڈتی ہیں گلی گلی، میری خلوتوں کی اُداسیاں وہ ملے تو بس یہ کہوں کہ آ، میرا مولا تیرا بھلا کرے (337)