میری پونجی

by Other Authors

Page 324 of 340

میری پونجی — Page 324

کی ہے۔بی بی باچھی صاحبہ کے ساتھ محبت اور شفقت کا ایسا تعلق بنا کہ اُس کے بعد میں جب بھی پاکستان جاتی اُن کو ملنے جاتی تو میرے لیے کوئی نہ کوئی تحفہ تیار ہوتا اور ان کا جب بھی لندن آنا ہوتا اگر مجھے کسی وجہ سے ملنے میں دیر ہو جاتی تو پیغام آتا کہ تم ملنے کیوں نہیں آئی ہو۔پھر ان محبت کے رشتوں کو مزید تقویت سعدیہ خان (بی بی جمیل صاحبہ کی بیٹی ) کی وجہ سے ملی۔سعدیہ بی بی میرے گھر کے قریب رہتی ہیں اور اُن کے بچے اُس وقت جس سکول میں جاتے تھے وہ سکول بھی میرے گھر کے سامنے ہی تھا۔اس طرح ہم ایک دوسرے کی ضرورت بھی بن گئے تھے۔سامی صاحب ( مرحوم ) سعدیہ کو اپنی بیٹیوں ہی کی طرح پیار کرتے تھے۔سعدیہ کیلئے ہمارا گھر کوئی غیر نہیں ہے۔اُن دنوں جب محترمہ بی بی باچھی صاحبہ پاکستان سے تشریف لائیں تو سعدیہ کے گھر میں قیام کیا۔محترمہ بی بی جمیل صاحبہ اور اُن کی چھوٹی بیٹی (بی بی صوفیہ ) کا قیام بھی سعدیہ کے گھر ہی تھا۔ظاہر ہے میری تو یہ خوش نصیبی تھی کہ اکثر ملنار ہتا تھا۔سامی صاحب کا جماعتی کاموں کی وجہ سے ہر روز ہی مسجد جانا ہوتا، اس طرح ان معزز مہمانوں کو لفٹ دینے کا اعزاز بھی مل جاتا تھا۔ایک دن سعدیہ کا فون آیا کہ کیا آپ نے جمعہ پر جانا ہے؟ اور اگر جانا ہے تو امی کو بھی ساتھ لے لیں۔میں نے کہا کیوں نہیں! ہمارے ساتھ محترمہ بی بی باچھی صاحبہ اور محترمہ بی بی جمیل صاحبہ اور انکی بیٹی صوفیہ صاحبہ جمعہ کیلئے گئے اور واپسی بھی ہمارے ساتھ ہی ہوئی۔واپسی پر میں نے دعوت دی کہ آج تو آپ سب میرے ساتھ ہی ہیں ہمارے گھر چلیں۔کہنے لگیں ، آج نہیں پھر کبھی آئیں گے۔میرا جواب تھا کہ یہ تو آپ ہمیشہ ہی کہتی ہیں ، آج میں نے کوئی خاص نہیں گو بھی گوشت بنایا ہے کھانا کھا لیں۔ہم نے بھی ابھی کھانا نہیں کھایا ہم سب اکٹھے کھانا کھاتے ہیں۔معزز مہمانوں نے پھر کبھی آنے کا کہہ کر مجھے چپ کرا دیا۔میں احترام کی وجہ سے زیادہ اصرار نہ کرسکی۔سامی صاحب مجھے گھر اُتار کے اُن کو چھوڑنے چلے گئے۔میں ابھی کوٹ وغیرہ اتار کے کچن میں آئی ہی تھی کہ دروازہ کھٹکا۔کھولا تو سب بیگمات مسکراتے ہوئے سامنے کھڑی (324)