میری پونجی — Page 325
تھیں۔محترمہ بی بی باچھی صاحبہ اور محترمہ بی بی جمیل صاحبہ کہنے لگیں لو، اللہ میاں نے تمہاری بات ٹن لی ہے۔سعدیہ تو گھر پہ نہیں ہے تمہاری بھی خواہش پوری ہوگئی۔میری تو خوشی کی کوئی انتہا نہیں تھی۔مگر گھبراہٹ بھی ہوئی کہ معزز مہمانوں کی خاطر داری کا کوئی خاص انتظام نہیں ہے۔پہلے سے ہی تیار شامی کباب، پودینے کی چٹنی ، گو بھی گوشت اور گرما گرم پھلکے مکھن لگا کر پیش کئے۔میں دل میں شرمندہ ہی تھی مگر معزز مہمانوں نے میری اتنی دلجوئی فرمائی کہ میں کبھی بھول نہ پاؤں گی۔اُس کے بعد جب بھی ملاقات ہوتی اُس سادہ سے کھانے کی تعریف ضرور ہوتی۔اپنے محترم بھائی حضرت خلیفتہ المسیح الرابع " کی طرح اُن کو بھی لوگوں کا دل جیتنے کا ہنر آتا تھا اس لیے ہر وہ شخص جو ایک باربی بی باچھی صاحبہ کوئل لیتا اُس کو یقین ہو جاتا کہ یہ معزز ہستی صرف اور صرف اتنا پیار مجھ سے ہی کرتی ہیں اور یہ سچ بھی ہے اُنکی شخصیت اتنی دلر با اور پرکشش تھی کہ دل چاہتا ہے کہ کہا جائے کہ وہ صرف میرے ساتھ ہی پیار کرتی ہیں تو کوئی مبالغہ نہیں ہوگا، الحمد للہ ! میں خوش نصیب ہوں کہ میرے حصہ میں بھی آپ کا پیار آیا ہے۔اب میں دوبارہ اسی مضمون کی طرف واپس آتی ہوں۔جس روحانی رشتے کے ساتھ ہماری روحوں کا رشتہ بھی منسلک ہے یعنی خلافت کا بابرکت وجود۔مجھے یاد ہے، حضرت خلیفہ امسیح الرابع کے شروع شروع کے رمضان کی بات کر رہی ہوں، مسجد فضل لندن میں عصر کی نماز کے بعد درس پھر مغرب کی نماز کے بعد مسجد میں ہی روزہ افطار ہوتا تھا اور عشاء کی نماز کے بعد تراویح۔اس طرح رمضان المبارک کی برکتیں سمیٹتے ہوئے صبح سحری کا وقت ہو جاتا۔روزہ رکھنے کے بعد پھر مسجد فضل کی طرف بھاگتے۔فجر کی نماز کے بعد جب نصرت ہال سے باہر نکلتے تو اتنی دیر تک حضور انور نماز پڑھا کر او پر اپنے گھر کی بالکونی میں کھڑے ہو جاتے۔ہم سب کے منہ اوپر کو اٹھے ہوئے ہوتے۔جتنی دیر حضور بالکونی میں تشریف فرما ہوتے ہم اس بابرکت نظارہ سے محفوظ ہوتے رہتے۔اگلے دن جب لینی یا اور کوئی بھی جس کی ڈیوٹی ہوتی اُس کو پوری تفصیل سے یہ فرماتے کہ آج (325)