میری پونجی

by Other Authors

Page 291 of 340

میری پونجی — Page 291

میں آتی تھی ، چاچا جی یوسف صاحب نے وہ کھدر ہمارے گھر بھجوادیا کہ بچوں کے گرم کپڑے بنا لیں۔چاچا جی فضل کریم صاحب جب رات کو دوکان بند کرتے تو شام کو ایک سلائی کی مشین ہمارے گھر بھجوا دیتے کہ رات کو بچوں کے کپڑے سی لیں اور صبح آ کر مشین لے لیتے۔ہماری امی جان رات بھر بیٹھ کر سلائی کرتیں۔آج جب میں یہ سب لکھ رہی ہوں تو آنکھوں میں آنسوؤں کی جھڑی لگی ہوئی ہے۔سوچتی ہوں کن کن تکلیفوں اور مشکلات میں ہماری ماں نے وقت گزارا ہوگا۔اب اللہ تعالیٰ نے ہمیں کتنی سہولتیں عطا کی ہوئی ہیں۔اللہ تعالیٰ میرے والدین کو اجر عظیم عطا فرمائے۔یہ واقعہ میں کئی بار لکھ چکی ہوں جتنی بار بھی لکھوں مجھے کم لگتا ہے کہ یہ ایک ایسا احسان ہے جس کا کوئی بدل نہیں ہو سکتا سوائے دعا کے۔مکرم مولوی اسماعیل صاحب دیا گڑھی مرحوم اور اُن کی بیگم خالہ جی کا ذکر نہ کروں یہ ممکن نہیں۔اُن کی آنکھ ہر وقت ہمارے گھر پر ہوتی تھی۔ہماری کوئی بھی ضرورت ہواُس کو پورا کرنا وہ اپنا فرض سمجھتے تھے۔خاص طور پہ جب میرے ابا جان محاذ پر گئے تو بعد میں میرے بھائی محمد اسلم خالد کی پیدائش ہوئی۔اُس مشکل گھڑی میں انہوں نے ہماری امی جان کی پوری مدد کی۔اس طرح ہماری امی جان اپنی جفا کشی اور اپنے محسنوں کے حسن سلوک سے اُس مشکل ترین وقت سے گزریں۔آخر ابا جان کے منی آرڈر آنے شروع ہو گئے تو ابا جان کی رضا مندی سے ہمارے تایا جی نے ہماری فیملی کو ربوہ منتقل کر دیا۔ہمیں ربوہ منتقل کرنے کے بعد ایسا نہیں ہوا کہ تایا جی نے ہمیں چھوڑ دیا بلکہ وہاں ربوہ میں بھی ہمیں مستقل گاؤں سے ساگ ہمکئی کی روٹیاں، گنے کے رس کی کھیر اور گنوں کی ترسیل جاری رہی۔میرے تایا زاد بھائی تیس یا چالیس میل کی مسافت سائیکلوں پر طے کر کے یہ سب دینے آتے تھے۔اتنا ہی نہیں پھر وہ ہمیں اپنے گاؤں بھی لیکر گئے۔وہاں میرے تایا زاد بھائی اور بہن کی شادی تھی جو ہمارے لیے بالکل نیا تجربہ تھا۔گاؤں کی زندگی ہماری زندگیوں سے بہت مختلف تھی۔ہم نے وہاں کھیتوں میں جا کر کپاس کے ڈوڈوں میں سے روٹی نکالی، تازی تازی مولیاں زمین سے (291)