میری پونجی — Page 290
یہی بہتر راستہ تھا۔اباجان نے اللہ تعالیٰ کے بعد میرے تایا جی کو ہمارا نگران بنا یا اور چلے گئے۔تایا جی خود بھی مالی لحاظ سے ہماری ہی طرح تھے۔فرق صرف یہ تھا کہ اُن کی فیملی گاؤں میں تھی اور گاؤں کی زندگی شہروں سے بہت مختلف ہوتی ہے۔وہاں اُن کو وہ مشکلات نہیں تھیں جو ہمیں تھیں۔دودھ، دہی، سرسوں کا ساگ ، سبزی ہکئی کا آٹا اور جلانے کیلئے ایندھن وغیرہ سب وہاں با افراط تھا۔تا یا جی اور اُن کی فیملی نے حقوق العباد کا حق ادا کیا۔گاؤں سے ہمارے لیے ہر وہ چیز آتی تھی جس کی ہمیں ضرورت ہوتی۔تایا جی ہر جمعہ کو اپنے گھر جاتے تھے اور واپسی پر ہماری تائی اور تایا جی سروں پر ایندھن کے بورے اُٹھائے آتے۔اکثر ساگ ہکئی کی روٹی اور مکھن وغیرہ بھی لیکر آتے۔جب ابا جان افریقہ گئے تو میرا بھائی بہت چھوٹا تھا بلکہ کچھ مہینوں کا تھا۔تایا جی اُس کو بہت پیار کرتے اور اکثر رات کو اُسے گود میں لیکر باہر سیر کروا کر لاتے۔تایا جی کھانا ہمارے ساتھ ہی کھاتے تھے۔ہماری امی جان اُن کو سالن اور روٹی دیتیں تو کبھی دوسری بار نہ مانگتے جتنا بھی ڈال دیا بس وہ کھا کر اُٹھ جاتے۔امی بہت کہتیں کہ بھائی اور لے لیں مگر شائد وہ جانتے تھے کہ اس سے زیادہ ہوگا ہی نہیں۔جتنا مناسب ہوگا اتنا دے دیا، بس وہی کافی ہے۔میری امی جان صحابی حضرت مسیح موعود کی بیٹی اور مربی بھائیوں کی بہن تھیں۔چونکہ قادیان کی تعلیم یافتہ تھیں اس لحاظ سے پردہ کی بہت پابند تھیں۔ہمارے تایا جی اس بات کا بہت خیال رکھتے تھے۔جب بھی وہ گھر آتے ہمیشہ دروازہ میں پہلے آواز دیتے پھر تھوڑی دیر رک کر انتظار کرتے اور ہماری آواز پر کہ تایا جی آجائیں، گھر میں قدم رکھتے۔یہ تو میرے تایا جی تھے مگر ابا جان کے دوست احباب نے بھی حقوق العباد ادا کرنے میں کوئی کمی نہیں آنے دی۔گھر کے سامنے مسجد کی دیوار کے ساتھ چاچا جی عبدالکریم صاحب مرحوم کی دوکان تھی جہاں وہ درزی کا کام کرتے تھے اور ساتھ ہی چاچا جی شیخ محمد یوسف صاحب مرحوم کا چینی کا ڈ پو تھا۔ہماری اُس وقت کی غربت میں اُنہوں نے بھی پورا پورا ساتھ دیا۔اُن دنوں چینی کھد رقسم کی بوریوں (290)