میری پونجی — Page 292
نکالیں، ساگ تو ڑا، گنے توڑے، غرض بہت مزے کیے۔پھر سب سے بڑی بات بھینسوں کا دودھ دوھنا وغیرہ ، پھر اُس دودھ کو مٹی کی بڑی ساری ہنڈیا میں مٹی کے چولہے پر رکھ کر پکایا جاتا ، دن بھر پک پک کر اُس کے اوپر جو ملائی آتی اُس کا دہی بنایا جاتا اور صبح ہی صبح اُس کا مکھن بنتا۔باقی کی لسی محلے والے لینے آتے یا خود بھی استعمال کرتے۔پھر ہمیں جو ہماری تائی جی نے گرما گرم مکئی کی مکھن لگی روٹی او پر سرسوں کا ساگ او پر پھر مکھن اور گھر کی بنی سی کے ساتھ دیا، اُس کا مزا آج بھی سوچ سکتی ہوں۔سب سے مشکل تھا اُ پل تا پنا اورگاؤں میں ٹائلٹ کا نہ ہونا۔لیکن پھر بھی ہم نے اس گاؤں میں بہت بہت مزے کئے۔گاؤں کی شادیاں بھی دیکھنے کے قابل ہوتی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے تایا جی کو بہت فرمانبردار، نیک اور دین دار اولاد سے نوازا تھا۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ” جب لندن تشریف لائے تو اُن کے بچوں نے اُن کو ایک جلسہ سالانہ پر لندن بھی بھجوایا وہ یہاں آکر میرے امی ابا جان کے پاس ہی رہے۔اباجان نے اُن کو پورے لندن کی سیر بھی کروائی۔ایک چھوٹا سا لطیفہ بھی لکھ دیتی ہوں۔تایا جی باہر جاتے ہوئے تو قمیص شلوار پہن لیتے تھے مگر گھر میں وہ اپنی وہی دھوتی پہنتے تھے۔خالد کے بچے بہت چھوٹے تھے۔ایک دن اپنی دادی اماں کو پوچھنے لگے دادی جان یہ والے دادا جی سکرٹ کیوں پہنتے ہیں؟ یہ بات بچوں کو سمجھانی بہت مشکل تھی کہ یہ سکرٹ کیوں پہنتے ہیں۔میرے تایا جی حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ہر بات پر پورا اترنے والے انسان تھے۔سکول کی ایک جماعت بھی نہیں پڑھے تھے مگر دعوت الی اللہ کا انہیں بہت شوق تھا۔کوئی مخالف اُن کے آگے ٹھہر نہیں سکتا تھا۔ہر مسئلہ کا جواب اُن کے پاس موجود ہوتا۔ساری زندگی مسجد میں اذانیں دے کر اور مسجد کی خدمت کر کے گزار دی۔بہت مدت ہوئی سب نے گاؤں چھوڑ دیا ہوا ہے۔اب آدھی سے زیادہ اولاد جرمنی میں مقیم ہے اور باقی فیصل آباد کریم نگر میں آکر آباد ہو گئے ہیں۔میرے تایا جی مرحوم کو اللہ تعالیٰ نے ایک بہت بڑے اعزاز سے بھی نوازا ہے، اُن کے بیٹے عبد (292)