میری پونجی — Page 289
ملفوظات کے یہ حوالے میں نے اس لیے تحریر کئے ہیں کہ کبھی کبھی زندگی میں ایسے ایسے لوگ یا رشتہ دار ملتے ہیں جو حضرت مسیح موعود کے ان ملفوظات کی تصویر ہوتے ہیں۔جوحقوق اللہ اور حقوق العباد پر پورے اترتے ہیں۔ہماری جماعت میں ایسے ہزاروں نہیں لاکھوں لوگ ہونگے۔میں اپنی یادوں کا ایک اور پنا کھولتی ہوں اور اُن بزرگوں کی مثال تحدیث نعمت کے طور پر پیش کرتی ہوں جنہوں نے یہ احسن سلوک ہمارے ساتھ کیا۔جیسا کہ میں پہلے لکھ چکی ہوں کہ قیام پاکستان کے بعد جب ہم نے فیصل آباد میں آکر رہائش اختیار کی تو ہمارا گھر بالکل ہماری احمد یہ مسجد کے سامنے تھا اور مسجد کے سامنے ہی میرے ابا جان کی دکان تھی جس میں وہ بک بائنڈنگ کا کام کرتے تھے۔ابا جان کے ساتھ اُن کے خالہ زاد بھائی شیخ غلام محمد صاحب مرحوم بھی کام کرتے تھے۔تایا جی اور ابا جان نے ایک ساتھ ہی بیعت کی تھی۔اُس وقت سے ان دونوں بھائیوں میں سگے بھائیوں سے بھی زیادہ پیار تھا۔صرف فرق یہ تھا کہ میرے ابا جان کی شادی قادیان میں اُس وقت کے لحاظ سے پڑھی لکھی لڑکی سے ہوئی جبکہ میرے تایا جی کے والدین بھی گاؤں کے رہائشی تھے اور شادی بھی ایک غیر احمدی گاؤں کی لڑکی سے ہوئی تھی جو شادی کے بعد احمدی ہو گئی تھی۔اب ہم فیصل آباد میں تھے تو یہاں بھی میرے تایا جی کی فیملی پاس کے گاؤں میں رہتی تھی۔تایا جی کی بیوی اور بچے تو گاؤں میں رہتے تھے مگر ہمارے تایا جی مسجد میں سوتے تھے۔پانچ وقت کی اذان دیتے تھے۔دھیمے مزاج ، ہمدرد اور نیک انسان تھے۔ابا جان اور تایا جی کا آپس میں بہت پیار تھا۔ایسا محسوس نہیں ہوتا تھا کہ وہ دونوں سگے بھائی نہیں ہیں۔قیام پاکستان کے بعد تو ابا جان کے مالی لحاظ سے حالات بہت ہی خراب رہے۔جس بھی کام کو شروع کرتے کہیں بھی کامیابی نہیں ہوتی تھی۔پھر فرقان فورس کا پروگرام بن گیا۔جب وہاں سے واپس آئے تو اپنے بھائیوں سے مشورہ کیا تو اُن سب کی رائے کے مطابق افریقہ کا پروگرام بن گیا۔کیونکہ میرے سب تایا، چا مع اپنی فیملی کے وہیں تھے۔اس لیے گھریلو حالات سدھارنے کا ایک (289)