میری پونجی — Page 281
پر فائز ہیں اور خلوص دل سے دینی خدمات بجالا رہے ہیں۔دوسال قبل جب ہمارے موجودہ امیر جماعت جناب رفیق احمد صاحب حیات امارت کے عہدے پر فائز ہوئے تو بھائی جی نہایت محبت بھری نظر سے مکرم امیر صاحب کو دیکھ رہے تھے۔ہم دونوں مسجد کے احاطے میں کرسیوں پر بیٹھے گفتگو کر رہے تھے کہ مکرم امیر صاحب ایک دفتر سے نکل کر دوسرے دفتر کی طرف تیز تیز قدموں سے چل رہے تھے۔بھائی جی نے پنجابی میں مجھے یہ بات بتائی کہ جب رفیق اور لئیق چھوٹے تھے تو بہت شرارتیں کرتے تھے۔اُن کے ابا بشیر حیات صاحب میرے پاس آئے اور کہا کہ شیخ صاحب آپ ہی ان کو ڈانٹیں۔چنانچہ جب بھی مجھے مناسب معلوم ہوتا میں اِن دونوں کی اصلاح کرتا اور اب دیکھو یہ امیر جماعت بن گئے۔یہ ساری بات انہوں نے قدرے فاخرانہ انداز میں از راہ محبت بتائی۔میں نے موقع کی مناسبت اور اُن کی خوشی کو محسوس کرتے ہوئے عرض کیا کہ یہ آپ کی تربیت ہی کا نتیجہ ہے۔برطانیہ میں ورود کے بعد آپ اخبار احمدیہ سے منسلک ہو گئے۔آہستہ آہستہ ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ماہانہ اجلاسات کے بعد ہلکی سی چائے پیش کی جاتی تھی۔بھائی جی نے بھی کچن میں اپنے جو ہر دکھائے۔معلوم ہوا کہ اُن کے ہاتھ کے پکوڑے ذائقہ دار ہوتے ہیں۔چنانچہ اُن سے پکوڑوں کی فرمائش ہونے لگی اور جوں جوں چائے کے ساتھ پکوڑوں کی خوشبو آنے لگی ، کچن میں رونق بڑھنے لگی۔ڈاکٹر ولی احمد شاہ صاحب کی سرکردگی میں ہماری چھوٹی سی کچن ٹیم اہتمام پکوڑہ کیا کرتی۔کسی ایک جمعہ کے بعد بھائی جی نے مکرم محترم حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی خدمت میں پکوڑے پیش کیے اور بقول بھائی جی کے کہ اُنہوں نے ایک چھوٹا سا’روڑ ا ( کڑک پکوڑہ ) اُٹھالیا اور ڈھیر ساری دعائیں دیں۔پھر تو یہ سلسلہ مستقل سی صورت اختیار کر گیا۔کچھ عرصہ کے بعد جب شیخ صاحب پکوڑے پیش کرنے کیلئے گئے تو مکرم چوہدری صاحب نے بہت محبت سے معذرت کرتے ہوئے فرمایا کہ شیخ صاحب مجھے تکلیف سی ہو جاتی ہے ، آج تو میں لے لیتا ہوں مگر آئندہ مجھے (281)