میری پونجی — Page 282
پکوڑے نہ دیں۔چنانچہ بھائی جی مکرم چوہدری صاحب کی خواہش کے پیش نظر اُن کو پکوڑے دینے نہ گئے۔مگر اگلے ہی ہفتے کسی خادم نے آکر پیغام دیا کہ بھائی جی کو چوہدری صاحب بلا رہے ہیں اور دروازے کے پاس اُن کے منتظر ہیں۔بچارے بھائی جی جس حالت میں تھے ویسے ہی پہنچے۔چودھری صاحب نے فرمایا: ” جب میں پچھلے جمعہ اپنی تکلیف کا ذکر کر کے اوپر فلیٹ میں گیا تو مجھے اس بات سے رنج پہنچا کہ میں نے اپنی تکلیف کا ذکر کر کے آپ کو تکلیف پہنچائی ہے اور اپنے جذبات کو آپ کی محبت پر ترجیح دی ہے۔ایسا کریں آپ مجھے پکوڑے دے دیا کریں۔“ بھائی جی کی طبیعت پر جو ایک ہفتہ کی افسردگی تھی ، یک دم دور ہوگئی اور پھر سلسلہ از سر نو شروع ہو گیا۔مکرم شیخ مبارک احمد صاحب افریقہ سے ربوہ اور پھر وہاں سے لندن بحیثیت مشنری انچارج یو کے مقرر ہوئے۔لندن میں افریقہ سے آئے ہوئے احمدی خاندان مسجد کے گردونواح میں بس چکے تھے۔انہی میں ہمارے بھائی جی بھی تھے۔لوگ بھائی جی کی گونا گوں خوبیوں سے خوب واقف تھے۔محمود ہال کے بالائی فلیٹ پر مکرم محترم حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب بھی قیام رکھتے تھے۔مکرم چوہدری صاحب کی ڈاک معرفت مسجد فضل ہی آتی تھی جو اُن کو فلیٹ پر پہنچا دی جاتی۔مکرم شیخ صاحب نے یہ خدمت مکرم بھائی جی کے سپرد کر دی اور وہ اس کو بخوشی سرانجام دیتے۔اس وسیلے سے بھائی جی کا مکرم چوہدری صاحب کے پاس روزانہ آنا جانا شروع ہو گیا اور یہ تعلق بڑھنا شروع ہو گیا اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہا جب تک کہ مکرم چوہدری صاحب نے مستقلاً لندن کو خیر باد نہ کہ دیا۔اپنی روانگی سے قبل مکرم چوہدری صاحب نے اپنا ایک تھری پیس سوٹ اور کچھ (282)