میری پونجی

by Other Authors

Page 274 of 340

میری پونجی — Page 274

حضرت خلیفہ مسیح الرابع " کے آنے کے بعد جلسے لندن میں شروع ہو گئے تو مہمانوں کا بھی لندن میں تانتا بندھ گیا۔امریکہ، جرمنی ، کینیڈا، اور پاکستان کے علاوہ بھی دنیا بھر سے مہمان آنے شروع ہو گئے اور جس کی بھی دور یا نزدیک کی رشتہ داری ہوتی وہ وہیں جگہ بنالیتا۔اسطرح امی ابا جان کے گھر بھی جلسہ کے دنوں میں بہت بہت مہمان آتے اور خوب رونق رہتی۔میرا بھائی خالد اور ڈاکٹر صلاح الدین صاحب، جو یہاں لندن میں ہی ہوتے تھا، ان سب کی ڈیوٹی ہیتھرو ایئر پورٹ سے مہمانوں کو لانے اور پھر چھوڑ کر آنے میں لگتی تھی۔جلسہ ختم ہونے کہ بعد جب میرے ابا جان اسلام آبادا اپنی ڈیوٹی سے واپس آجاتے تو اُن کا کام یہ ہوتا کہ وہ مہمانوں کولندن کی سیر کرواتے۔گھر سے نکلنے سے پہلے اپنی جیبوں کو اچھی طرح بادام ، چنے اور کچھ میٹھی چیزوں سے بھر لیتے۔ساتھ جانے والوں کی خوب خوب خدمت کرتے۔اپنا اور مہمان کا دن بھر کا پاس لے لیتے اور خوب خوب پورے لندن کی سیر کرواتے۔گھر میں بھی امی جان کے ساتھ مل کر مدد کرتے۔قرآن کریم سے پیار یہ لکھ چکی ہوں کہ میرے ابا جان کے بچپن میں کوئی خاص تعلیمی ماحول نہ تھا۔لیکن جیسے ہی احمدیت کے نور سے آشنا ہوئے تعلیم کی کوئی کمی نہیں رہی الحمد للہ۔دینی معلومات کافی وسیع تھیں۔در ثمین اور کلام محمود کے شعر زبانی یاد تھے اور ان اشعار کا بر موقع و بر محل استعمال فرماتے تبلیغ کیلئے اُن کو کبھی مشکل نہیں ہوئی ، ہر مسئلہ کا حل اُن کے پاس موجود ہوتا۔جب میری امی جان لندن آئیں تو اس وقت ابا جان نے ان سے قرآن مجید پڑھا۔امی جان کو آپ اپنی استانی مانتے تھے۔جب آپ نے قرآن مجید ختم کیا تو امی جان کیلئے خاص طور پر سوٹ لے کر آئے۔جلد بندی کے ماہر تھے۔جماعت کے لوگ اپنے پرانے بہت ہی خستہ حال قرآن مجید کے نسخے لیکر آتے تو ان کو بڑی محنت اور پیار سے تیار کرتے اور ساتھ ساتھ قرآن مجید کو سنبھال کر رکھنے کی تاکید فرماتے۔جتنی دیر قرآن کریم اُن کے ہاتھ میں رہتا دعاؤں میں مشغول رہتے۔اگر ترجمہ والا ہوتا تو ترجمہ اور تفسیر کا (274)