میری پونجی — Page 273
ہوتا کیا کھاؤ گی کیا پکا ئیں۔سچ پوچھیں اُن کا یہ جواب سن کر میں ہمیشہ شرمندہ ہو جاتی اور کہتی امی جان میں کھانا کھا کر آؤں گی یا میں آکر بنا لوں گی اور جب میں واپس آتی تو ایک تھیلا میرے ہاتھ میں ضرور پکڑاتے چاہے اُس میں ہری مرچ اور ٹماٹر ہی کیوں نہ ہوں۔جو بھی گھر میں پڑا ہوتا وہی تھیلے میں ڈال دیتے تھے۔اللہ تعالیٰ اُن دونوں کو جنت الفردوس میں جگہ دے بہت ہی پیار کرنے والے اور مہمان نواز میرے والدین تھے۔ابا جان مسجد جاتے تو امی جان سے فرمائش ہوتی آج مولی یا آلو کے پراٹھے بنا دو۔اگر کچن میں ہیں تو کچن والی ٹیم اور اگر اخبار الفضل انٹرنیشنل کی ٹیم ہے تو اُن کیلئے گھر سے ضرور کچھ نہ کچھ بنوا کر لے جاتے۔کئی بار ایسا ہوتا کہ میں اپنی امی کو فون کرتی اور پوچھتی امی آپ کیا کر رہی ہیں تو جواب ہوتا تمہارے ابا کی فرمائش پر کڑھی بنا رہی ہوں۔آج اُنہوں نے مسجد لیکر جانی ہے۔مسجد جانا ابا جان کی زندگی کا ایک ایسا شوق یا پیار تھا جس کے بغیر انسان زندہ نہ رہے۔ایسے ہی اُن کیلئے مسجد جانا اور وہاں کام کرنا اور صفائی کرنا بہت اچھا لگتا تھا۔ابا جان کہتے لوگ اس کام سے گھبراتے ہیں اور یہی کام میری بخشش کا ذریعہ ہیں۔ابا جان ایک بار فرش صاف کر رہے تھے کسی نوجوان نے کہا آپ کیوں کر رہے ہیں رہنے دیں۔ابا جان نے جواب دیا تم نہیں جانتے میں مسیح کا ایک ادنی چاکر ہوں اس لیے کر رہا ہوں۔آپ مجھے یہ کام کرنے دیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خاندان حضور کے ساتھ بہت ہی پیار اور عقیدت تھی۔جب حضرت خلیفتہ اسیح الرابع " شروع شروع میں لندن آئے تو ابا جان کچن میں اپنی ٹیم کے ساتھ کام کرتے تھے۔طوبی ، مونا، بی بی فائزہ اور بی بی شوکی کے بچے بہت چھوٹے چھوٹے تھے۔اُوپر نیچے بھاگے پھرتے تھے۔ابا جان کہتے ہیں کہ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد آ کر کہتے انکل پانی پینا ہے۔میں اُن کو پانی دیتا جو بچ جاتا وہ میں پی لیتا کہ نجانے ان میں سے کل کون خلیفہ بن جائے گا۔اُس وقت میں تو دنیا میں نہیں ہونگا لیکن میں نے تبرک ضرور پیا ہوگا۔(273)