میری پونجی — Page 275
میری یونجی باقاعدگی سے مطالعہ کرتے۔اُن کی زندگی کا جو آخری رمضان شریف تھا اُس میں مجھے فون کیا اور فرمانے لگے کہ مبارک ہو اس رمضان شریف میں میں نے دو بار قرآن کریم ختم کیا ہے۔یہ بات بتاتے ہوئے ابا جان کے ہر لفظ سے جو خوشی کا اظہار ہورہا تھا مجھے ہمیشہ یادر ہے گا۔لوگ کوشش کرتے کہ آپ جو اُن کا کام کرتے ہیں، اس کام کی اجرت لیں۔لیکن ابا جان کا ہمیشہ ایک ہی جواب ہوتا میں یہ کام پیسوں کیلئے ہر گز نہیں کرتا بس آپ مجھے اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔ابا جان کی پسندیدہ دعا تھی جزاکم اللہ۔فرماتے تھے مجھے لوگوں سے کیا لینا ہے مجھے تو اللہ سے بخشش چاہئے۔جماعت کی بہت سی قیمتی کتابوں کی جلد بندی کی ، پرانے تمام الفضل اکٹھے کر کے جلد بندی کی۔ہر کتاب کے آخر میں اپنی ہی ایک مہر بنائی ہوئی تھی ، وہ لگاتے تھے : ( طالب دعا : محمد حسن) میرے ابا جان کو دعا کے علاوہ کبھی کسی چیز کی ضرورت نہیں ہوئی۔الحمد للہ۔ہمیشہ لوگوں کی مدد کی۔ہمیشہ ہمیں ایک بات کی نصیحت کی کہ دینے والا ہاتھ ، لینے والے ہاتھ سے ہمیشہ اچھا ہوتا ہے۔ނތ میرے ابا جان بہت بہادر، باہمت اور بارعب شخصیت کے مالک تھے۔وہ اللہ تعالی کے سواکسی سے نہیں ڈرتے تھے۔لوگ اُن کی بہت عزت کرتے تھے۔ہم خود بھی اپنے ابا جان سے کھل کر بات نہیں کر سکتے تھے لیکن میرے ابا جان پر جب اپنی بیٹی کی وفات کے غم کا پہاڑ ٹوٹا توا ایکدم اُن کی دُنیا ہی بدل گئی۔اُن کے بولنے والی صلاحیت پر فالج کا حملہ ہو گیا اور وہ بالکل خاموش ہو گئے۔وہی میرے ابا جان جو 80 یا 90 سال کی عمر میں بھی جوان لگتے تھے، ایکدم بوڑھے ہو گئے۔سارا سارا دن سر جھکائے کرسی پر بیٹھے رہتے تھے۔تقریباً دو سال کے بعد کچھ اُنکی طبیعت بحال ہوئی تو سامی صاحب اور امی جان کے صدمہ نے انہیں نڈھال کر دیا۔اُمی جان کی وفات کے بعد اباجان خالد کے گھر آگئے۔امی ابا جان ویسے تو ہم سب بچوں کے ساتھ بہت پیار کرتے تھے مگر خالد اور اس کے (275)