میری پونجی

by Other Authors

Page 264 of 340

میری پونجی — Page 264

بارے میں ضرور کچھ تفصیل لکھوں گی کہ اس اخبار کے ساتھ میرا بھی بہت دلی اور گہرا تعلق ہے۔اس اخبار کے بانی بشیر احمد رفیق خان صاحب ( سابق امام مسجد فضل ،لندن ) ہیں۔اُن کی زیر نگرانی یہ اخبار جاری ہوا۔محترم مکرم مولانا بشیر احمد رفیق صاحب اپنی کتاب چند خوشگوار یادیں میں تحریر کرتے میں کہ خاکسار اس اخبار کا بانی تھا۔اللہ تعالیٰ نے خاکسار کو ایک لمبے عرصہ تک اس اخبار کا ایڈیٹر ہونے کا شرف عطا فرمایا اور باقاعدگی سے اس کیلئے مضامین بھی لکھتے رہنے کی توفیق ملی۔فالحمد لله ) یہ اخبار ہوتے ہوتے میرے ابا جان کے پاس آ گیا۔اب مجھے اس کا سال اور مہینہ تو یاد نہیں ہاں یہ ضرور یاد ہے کہ ابا جان مسجد فضل جا کر اخبار احمدیہ کی پرنٹنگ میں طاہر سفیر صاحب کی مدد کرتے رہے۔پھر مظفر کھوکھر صاحب کا ہاتھ بٹاتے رہے۔اُس وقت اخبار احمد یہ محمود ہال میں تیار ہوتا تھا۔پہلے الگ الگ صفحات کو اکٹھا کر کے staple کرتے تھے۔پھر ہر اخبار کو فولڈ کرتے اور کاغذ میں لپیٹ کر پوسٹ کر دیا جاتا تھا۔پلاسٹک کے لفافوں کا استعمال اس وقت دور کی بات تھی۔یہ سارا کام ان دنوں چوہدری رشید صاحب کی زیر نگرانی ہوا کرتا تھا۔جماعت کے چھوٹے چھوٹے بچے اس کار خیر میں بہت مددگار و معاون تھے جو آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی بڑی ذمہ داریوں کا بوجھ اُٹھائے ہوئے ہیں۔پھر ایک ایسا وقت آیا کہ میرے بھائی محمد اسلم خالد کو اخبار احمدیہ کا منیجر بنا دیا گیا۔جس پر یہ کام مسجد کے بجائے گھر سے ہونے لگا۔اس طرح گھر کے تمام افراد خانہ کو اس کام میں شامل ہونے کی سعادت ملنے لگی۔امی ابا جان اُن دنوں انیسویں منزل پر رہتے تھے۔اخبار پرنٹ ہونے پر اسے گھر لے کر آنا اور پھر تیار کر کے پوسٹ آفس تک پہنچانے کے تمام مراحل سے گزرنا شامل تھا۔کبھی لفٹ ٹھیک ہے اور کبھی خراب لیکن کام ہر حالت میں جاری رہتا۔جن بھی مشکل یا آسان مراحل سے (264)