میری پونجی

by Other Authors

Page 265 of 340

میری پونجی — Page 265

یه اخبار گزرتا رہا ان یادوں کے ساتھ اپنے مرحوم ماں باپ کی یادیں وابستہ ہیں کہ کیسے کیسے حالات میں اپنے سب بچوں کو ساتھ لیکر اس کام کا علم اٹھائے رکھا۔پھر وقت نے ایک اور کروٹ لی جب میرے مرحوم شوہر بشیر الدین سامی صاحب کو اردو حصہ کا ایڈیٹر بنادیا گیا الحمد للہ سامی صاحب کو اس کام کی سعادت چودہ سال تک ملتی رہی۔اسطرح ہم بفضلہ تعالیٰ ایک کے بعد ایک اخبار احمدیہ کا حصہ بنتے چلے گئے۔ماضی کے جھروکوں سے دیکھوں تو سامی صاحب اخبار کی تیاری میں مصروف کمپیوٹر پر بیٹھے ہیں۔کمپیوٹر میں سامی صاحب کی مدد گار سارہ ہماری بیٹی تھی۔رات دیر تک کاغذات کی جانچ پڑتال جاری ہے۔پھر اخبار کی فائنل approval کیلئے مکرم امام صاحب یا امیر صاحب مکرم آفتاب احمد خان صاحب ( مرحوم ) کے پاس لے جارہے ہیں۔ترسیل کا کام امی ابا جان کی ذمہ داری تھی اور مینیجر میرا بھائی خالد تھا۔اس طرح اخبار احمد یہ چھپنے تک ہمارے گھر میں ہی تیار ہوتا تھا۔اس لیے اخبار پرنٹ ہونے تک امی اباجان سامی صاحب سے بار بار پوچھ رہے ہوتے کہ بتائیں اخبار کی کیا پوزیشن ہے کب تک چھپ کر آئے گا۔پھر جب اخبار تیار ہو کر امی ابا جان کے گھر پہنچ جاتا تو سب بچے یعنی لبنی ہنیر ، بلال ، سارہ اور عکاشہ پھر خالد کے چھوٹے چھوٹے بچے طاہرہ ، صباسب امی ابا جان کے ساتھ مل کر پوسٹ کی تیاری میں لگ جاتے۔امی جان بچوں کو مزے مزے کے کھانے اور سویٹ سے خوش رکھتیں اور بور ہونے سے بچاتیں وہیں ابا جان اپنی زندگی کے خوشگوار قصے اور سبق آموز کہانیاں سنا کر مصروف رکھتے۔سب بچے اُن گزرے دنوں کی بہت ہی پیاری یادوں کو اکثر دہراتے رہتے ہیں۔اب جب بھی اخبار احمد یہ گھر آتا ہے تو اپنے پیاروں کی بہت سی یادیں ساتھ لاتا ہے۔اب بھی ماشاء اللہ بہت اچھی ٹیم ہے۔ہمارے اخبار نے بہت بہت ترقی کی ہے۔اللہ تعالیٰ سب کام کرنے والوں کو جزائے خیر دے اور جماعت کے ہر کام میں دن دگنی اور رات چوگنی ترقیاں ہوتی رہیں۔(265)