میری پونجی — Page 263
میری یونجی تھا۔اس لیے کافی سامان لانے کی سہولت ہوتی تھی۔ہمارے ابا جان جب بھی آتے تو کراچی سے تار دیتے کہ میں فلاں دن چناب ایکسپریس سے آ رہا ہوں تو ہم اُن کو لینے اسٹیشن پر جاتے۔خود تو ہم سب تانگے میں آتے لیکن سامان چونکہ بہت ہوتا تھا اس لیے سامان ریڑھے پر آتا تھا۔اب محلے والوں کو علم ہو چکا تھا کہ اگر ریڑھے پر سامان آیا تو ضرور خالد کے ابا جان آئے ہوں گے۔ایک با را با جان لندن سے کچھ لوگوں کے ساتھ مل کر بڑی وین پر پاکستان آئے۔چونکہ وین پر گئے تھے اس لئے کافی سامان لے آئے۔پشاور پہنچ کر پھر گھر ٹیلی گرام دی کہ میں فلاں وقت پشاور سے چناب ایکسپرس سے ربوہ پہنچ رہا ہوں۔ہوا یہ کہ وہ ٹیلی گرام گھر والوں کو نہیں ملی۔ابا جان ربوہ اسٹیشن پر پہنچ کر حیران کھڑے ہیں۔سامان پھر ریڑھے کا ہی تھا اور وہاں نہ تانگہ نہ ریڑھا۔پریشان کھڑے تھے کہ ربوہ کے کچھ لوگوں نے ابا جان کو پریشان کھڑے دیکھا تو انہوں نے مدد کی اور ایک ریڑھے کا بندو بست کر دیا۔آپ ریڑھے پر بیٹھے گھر کی طرف آ رہے تھے کہ محلہ والوں نے دیکھ لیا۔بھاگے ہوئے آئے اور ہمارا دروازہ کھٹکھٹایا کہ آپ کے ابا جان ریڑھے پر بیٹھ کر آرہے ہیں۔گھر والوں کی ہنسی اپنی جگہ اور شرمندگی اپنی جگہ۔ابا جان کا غصہ اپنی جگہ لیکن جب اُن کو یہ علم ہوا کہ اُن کا کوئی پیغام ہی نہیں ملا تو ان کا سارا غصہ رفع دفع ہو گیا کہنے لگے کہ ریڑھے پر بیٹھ کر گھر آنے کا مزہ اپنی جگہ ہے۔یہ ہے میرے ابا جان کی سادگی کا بہت خوبصورت واقعہ۔اب پھر دوبارہ اصل مضمون کی طرف آتی ہوں۔اخبار احمدیہ انگریزی میں لکھے گئے نام کی تعبیر کا وقت ایسے شروع ہوا کہ لندن میں اخبار احمد یہ اور الفضل انٹرنیشنل کی ٹیم کے ساتھ ، جب تک اتنی ہمت رہی کہ گھر سے باہر جاسکیں، کام کیا اور بے شمار مرتبہ نام انگریزی میں لکھا گیا۔ابا جان کے خواب کا اس رنگ میں پورا ہونا کوئی معمولی بات نہیں تھی۔ابا جان سر جھکا کر چلنے والے فقیرانہ مزاج کے انسان تھے۔اب اخبار احمد یہ کا ذکر ہو ہی گیا ہے تو اس کے (263)