میری پونجی — Page 253
کی خواہش کی تو اُن کے اصرار پر بھی میں نے اُن سے پیسے نہیں لیے۔میری یہ بات اُن کے دل کو لگ گئی کہنے لگے اگر میرے لائق کوئی کام ہو تو ضرور بتائیں میں ہر بارا نکا شکر یہ ادا کردیتا۔پارٹیشن ہوگئی بچوں کے ساتھ ہم لاہور آ گئے۔حالات بہت خراب تھے نہ کوئی رہنے کی جگہ اور نہ کوئی کارو بار تھا۔پھر کسی نے مجھے بتایا کہ تمہارا کمشنرز دوست فیصل آباد میں الاٹ منٹ آفیسر لگا ہوا ہے تم وہاں جاؤ شاید تمہارا کوئی کام بن جائے۔میں فیصل آباد پہنچا پتہ چلا کہ وہ کچہری میں ملیں گے خاکسار وہاں پہنچا تو دیکھا کہ آپ تشریف لا رہے ہیں اور آپ کے ارد گر دلوگوں کا کافی ہجوم تھا۔جب وہ میرے پاس سے گزرنے لگے تو میں نے اُن کو سلام کیا۔وہ مجھے دیکھ کر ایک دم بہت حیران ہوئے اور ساتھ ہی فرمایا ! کیا مجھ سے کوئی کام ہے؟ میں نے اپنی ضرورت بتائی اُنہوں نے اپنے آفیسر کو ہدایت دی کے اس کو جو بھی یہ چاہتا ہے دے دیا جائے۔ماتحت آفیسر نے بات سنی ان سنی کر دی۔کچھ عرصہ بعد میں پھر اُن کے آفس گیا، مجھے کوئی اندر ہی نہیں جانے دیتا تھا۔اچانک اُن کی نظر مجھ پر پڑی اور مجھے اندر بلوایا ، میری پوری بات سنی اور شاپ کلرک کو بلایا۔اُس کو کہا تم ساتھ جاؤ اور جو بھی یہ کہتا ہے دلوا دو۔اس طرح مجھے فیصل آباد میں امین پورہ بازار میں عین مسجد فضل کے سامنے ایک لوہے سے بھری ہوئی دوکان الاٹ ہو گئی۔اب سوچتا ہوں کہاں بچوں کی چند کتابوں کی مرمت اور کہاں اتنے بڑے بڑے احسانات یہ سب اللہ تعالیٰ کے کرم ہیں۔اگر میں اُن کتابوں کے اُس وقت پیسے لے لیتا تو آج یہ کمشنر صاحب مجھے کبھی بھی نہ پہچان پاتے جنہوں نے میرے اوپر اور بھی کئی احسان کئے۔اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے۔حضرت نظام الدین اولیاء کے مزار پر دعا اور رویا میں اُن دنوں بے روز گار تھا اور اپنی نسبتی بہنوں کے بیٹوں یعنی نور محمد نسیم سیفی صاحب اور چوہدری سمیع اللہ صاحب (شفاء میڈیکو لاہور ) کے پاس دہلی میں مقیم تھا۔جبکہ یہ دونوں اپنی تعلیمی اغراض سے وہاں ہوسٹل میں مقیم تھے۔ایک روز خاکسار کو خیال آیا کہ حضرت نظام الدین اولیاء کے مزار پر (253)