میری پونجی — Page 252
والا، لال ہی نامی ہندو ایجنٹ تھا۔خاکسار اس کی دکان پر گیا اور ایک بچ کر آنے والے ہند وکو قاضی صاحب کے پاس لیکر آیا جس نے جہاز ڈوبنے اور مکرم مولوی صاحب کے حالات بتائے۔اس کے مطابق اس نے مولوی صاحب مرحوم کے حلیہ کا شخص دیکھا تھا لیکن جب ایمر جینسی ہوئی تو لوگوں نے چھلانگیں لگانی شروع کر دیں۔اس افراتفری میں کسی کوکسی کی کوئی خبر نہ رہی۔قاضی صاحب نے سارے حالات سننے کے بعد اس ہند وکو اپنی پگڑی تحفتاً دے دی۔ممبئی میں سیکرٹری تبلیغ کی سعادت ممبئی میں ہماری جماعت کی مجلس عاملہ کیلئے الیکشن ہوئے تو میرا نام سیکرٹری تبلیغ کیلئے پیش ہوا اور کثرت سے مجھے ووٹ ملے۔مکرم قاضی عبد الرشید صاحب نے مجھے مبارک باد دی۔خاکسار نے اپنی مجبوری بتائی کہ کسی علم والے کو ایسے عہدہ کیلئے چنیں میں تو اس عہدہ کے قابل نہیں ہوں۔قاضی صاحب نے یہ بات جماعت کے سامنے رکھی اور دوبارہ نام پیش کرنے کو کہا لیکن جماعت نے پھر میرا ہی نام کثرت رائے سے منظور کیا۔اس پر قاضی صاحب فرمانے لگے کہ اب آپ ہی سیکرٹری تبلیغ رہیں گے لکھائی پڑھائی کا کام میں کر دیا کروں گا۔الحمد للہ کہ کچھ عرصہ کام کی تو فیق بھی ملی اور جماعتی جلسوں کے اشتہارات اور دیگر جگہوں پر اس عاجز کا نام سیکرٹری تبلیغ چھپنے لگا۔ایک فرشتہ سیرت ڈپٹی کمشنر کی نوازشات خاکسار فیروز پور قلعہ میں ملازم تھا۔یہ ایک آرمی ڈپو تھا جہاں مختلف قسم کے کام کرنے پڑتے تھے۔ایک روز کمشنر صاحب نے اپنے بچوں کے استاد بابا فاضل صاحب کو میرے پاس بھجوایا۔اُنہوں نے اپنے بچوں کی کچھ کتابیں کا پیاں مرمت کرنے کو دیں۔خاکسار نے مرمت کر کے واپس دے دیں۔بابا فاضل میرے پاس آئے اور کہا کہ صاحب ان کی لاگت کا پوچھ رہے ہیں۔میں نے پیسے لینے سے انکار کر دیا بچوں کا کام کرنے کی میں کوئی اجرت نہیں لیتا۔کمشنر صاحب نے مجھے ملنے (252)