میری پونجی

by Other Authors

Page 254 of 340

میری پونجی — Page 254

جانا چاہئے۔اس ارادہ سے خاکسار گھر سے نکلا اور پوچھتا ہوا تقریباً تین میل پیدل چلتا ہوا مزار تک جا پہنچا۔مزار پر بیٹھے ایک مجاور نے پھول ڈالنے کی پیش کش کی ، میرا انکار اس کو اچھا نہ لگا اور باتیں بنانے لگا۔اس نے کہا کہ آئے ہیں بڑے دعا کرنے ، نہ پھول چڑھائے اور نہ کوئی چندہ دیا۔سچ تو یہ تھا کہ اُس وقت خود میری ایسی حالت تھی کہ کسی سواری کیلئے بھی میرے پاس کوئی پیسہ نہیں تھا۔میں نے دعا کی اور پھر پیدل ہی گھر تک آیا۔گھر پہنچا تو میرے پاؤں میں چھالے پڑے ہوئے تھے اور ساتھ تیز بخار ہو گیا۔تھکان اور بخار کی وجہ سے لیٹتے ہی مجھے کوئی ہوش نہیں رہی کہ میں کہاں ہوں، سوئے ہوئے خواب میں مجھے آواز آئی کہ: ” جب تم بادشاہ بنو گے تو خاندانِ مسیح موعود“ کو نہ بھولنا ایکدم میری آنکھ کھلی تو میری حیرت کی انتہا نہ تھی کہ کہاں میں اور کہاں بادشاہت کی خوشخبریاں مل رہی ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ کے احسان ہیں، اُس وقت تو تعبیر کا اتنا احساس نہیں تھا مگر اللہ تعالیٰ نے میری اس خواب کو پورا تو کرنا تھا، الحمد للہ۔اُس نے میری اس خواب کو بڑی شان سے پورا کیا، جب مجھے عاجز کو حضرت مسیح موعود کے لنگر خانہ میں پوری دنیا پر پھیلے خاندان مسیح موعود کی خدمت کی توفیق ملی۔الحمد للہ۔ایک دہریہ سے گفتگو میرے ساتھ ایک یعقوب نامی شخص کام کرتا تھا۔وہ دہر یہ خیالات رکھتا تھا۔اللہ تعالیٰ کی ہستی پر اعتراض کرتا بلکہ اس کی ذات ہی کا منکر تھا۔خاکسار کی پوری کوشش تھی کہ اُس کی باتوں کا تسلی بخش جواب دے سکوں لیکن اُس کی شوخیاں حد سے زیادہ بڑھنے لگیں۔ایک دن اُس نے بڑے طنز سے کہا کہ دیکھو کتنی شدید گرمی ہے۔تم اپنے خدا سے کہو کہ بارش برسا دے۔یہ بات کہہ کر وہ پیچھے ہی پڑ گیا۔وہ اپنی شوخی اور ضد میں بڑھتا چلا گیا۔خاکسار نے اُسے سمجھایا کہ خدا تعالیٰ ہماری خواہشوں کا تو پابند نہیں۔اس وقت باہر کسانوں کی فصلیں پڑی ہیں (254)