میری پونجی — Page 251
بوڑھی حاجن کی چیخ و پکار یہ واقعہ بھی مبئی کا ہی ہے۔ممبئی ساحل پر جہاز حاجیوں کو لے کر آیا تھا جس میں خاکسار کے دور کی رشته دارخواتین بھی حج کر کے آئی تھیں۔خاکسار اپنے دوسرے عزیزوں کے ساتھ انہیں ٹرین پر سوار کرنے کے لیے چلا گیا۔ان حاجنوں کے پاس بہت زیادہ سامان تھا۔ریلوے کے ملازمین زیادہ سامان کے پیسے مانگ رہے تھے اور ٹرین چلنے والی تھی۔خاکسار نے ریلوے والوں کو سمجھایا کہ ان کو جانے دیں ہم آپ کا حساب برابر کر دیں گے جس پر وہ راضی ہو گئے۔اتنے میں ٹرین کے چلنے کا وقت ہو گیا۔جلدی جلدی اُن کا سامان اندر پھینکا، حاجنوں کو سوار کرایا۔ایک بہت بوڑھی تھی اُس کو کہا تم میرے کندھوں پر بیٹھ جاؤ میں اُٹھا کر تمہیں چڑھا دوں۔بوڑھی حاجن نے جواب دیا ابھی تو میں سارے گناہ بخشوا کر آ رہی ہوں اب میں کیسے تمہارے کندھوں پر بیٹھ جاؤں۔اتنے میں ٹرین چل پڑی، میرے پاس کوئی چارہ نہ رہا۔اس حاجن کو اپنی کمر پر ڈال کر بھا گا اور چلتی ٹرین پر سوار کر دیا۔اگر چہ اس نے بہت شور شرابہ کیا لیکن مجھے امید ہے اس کی چیخ و پکار میں دعاؤں کا عصر ضرور شامل ہوگا۔بعد میں ریلوے والوں نے بھی کچھ نہیں کہا بغیر کسی ادائیگی کے ہمیں جانے دیا۔ایک گواہ ہمارے ایک مبلغ سلسلہ غالباً مولوی محمد دین صاحب کی شہادت ایک بحری جہاز کے ڈوبنے سے ہوئی تھی۔میں اُن دنوں ممبئی میں ہی مقیم تھا جہاں کے امیر جماعت مکرم قاضی عبد الرشید صاحب تھے ( والد محترم قامته راشد صاحبہ اہلیہ محترم امام عطاء المجیب راشد صاحب) جماعت پریشان تھی کہ کس طرح پوری صورت حال کا علم ہو۔مکرم قاضی صاحب نے خاکسار کو کہا اس حادثہ میں بچ جانے والا کوئی شخص لے کر آؤں جو آنکھوں دیکھا حال بیان کر سکے۔اس جہاز پر مسافروں کو سوار کرنے (251)