میری پونجی — Page 250
ابھی وہ وہاں سے گیا ہی تھا کہ پڑوسی نے پھر سے ہنگامہ کر دیا میں نے پھر سائیکل دوڑائی اور مولوی برکت علی صاحب کو اطلاع دی جس پر آپ پھر اس شخص کو لے کر پہنچے۔اس پر رمضان صاحب نے وہاں کھڑے ہو کر دار البیعت کی چھت ڈلوائی۔جزاهم اللہ تعالیٰ احسن الجزاء فی الدنیا و الآخرہ۔ایک ہندو بوڑھے مسافر کی مدد خاکسار ممبئی سے لدھیانہ کیلئے آ رہا تھا۔جس ٹرین میں خاکسار سفر کر رہا تھا وہ مسافروں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کے اس لائن پر ٹرین آٹھ دن کے بعد آتی تھی۔ہماری ہوگی میں ملٹری کے فوجی جوان بیٹھے ہوئے تھے۔جس کی وجہ سے کسی کو اندر آنے کی جرات ہی نہ ہوتی۔جو کوئی مسافر آتا اس کو ڈرا دھمکا کر بھیج دیتے۔اسٹیشن پر ایک بوڑھا شخص سر پر ایک ٹرنک اٹھائے اندر آنے کیلئے منتیں کر رہا تھا۔وہ کہ رہا تھا کہ بھائی مجھے خدا کیلئے اندر آ جانے دیں، میں بھوکا ہوں اور اگر آج میں ٹرین میں نہ بیٹھ سکا تو اگلی ٹرین آٹھ دن کے بعد آئے گی۔لیکن اُس کی اس التجا کو کون سنتا تھا۔دروازہ پر بیٹھے نو جوانوں نے ”چل چل بابا یہاں کوئی جگہ نہیں ہے بھاگ جاؤ“ کہہ کر اُسے بھگانا چاہا مگر اس کی التجائیں سُن کر مجھے بہت ترس آیا اور سوچ لیا کہ اسے ضرور اندر لانا ہے۔خاکسار اُس وقت سونے والی برتھ پر تھا، وہاں سے نیچے اُتر ا اور بابا کو آواز دی کہ ”لا وبابا رنک مجھے پکڑا ؤ ڈبہ کے سب مسافر مجھے حیرت سے دیکھنے لگے لیکن بفضل تعالیٰ خاکسار تمام مسافروں کی مخالفت کے باوجود مسافر کو اندر گھسیٹ کر لے آیا اور اپنی سونے والی برتھ اُس کو دے دی اور خود کہیں بھی جگہ ڈھونڈ کر بیٹھ گیا۔اب بابا حیران پریشان مجھے دیکھ رہا تھا۔میں نے اُس کو کہا تم فکر نہ کرو اور سو جاؤ۔بابا حیران تھا کہ کچھ دیر پہلے میں منت سماجت کر رہا تھا اور اب میں سونے والی برتھ پر آرام سے بیٹھا ہوں۔ہندو بابا مجھے سارا راستہ دعائیں دیتا رہا۔(250)