میری پونجی

by Other Authors

Page 227 of 340

میری پونجی — Page 227

جان کو کہو اب مہمان نوازی کو رہنے دیں اور اپنا خیال رکھیں۔اُن کے لیے زیادہ چلنا پھرنا اچھا نہیں ہے۔جن دنوں امی جان کو تکلیف شروع ہوئی میں خود اُن دنوں ہسپتالوں کے چکر میں تھی کیونکہ سامی صاحب شدید بیمار تھے۔امی جان کا پہلے بہت اصرار تھا کہ میں نے سامی صاحب کو ملنے ہسپتال جانا ہے۔لیکن سامی کہتے کہ امی ابا جان کو میرے پاس نہ لانا میں اُن کو صحت مند ہو کر خود ملنے جاؤں گا، اس حالت میں وہ مجھے دیکھیں گی تو اُن کو تکلیف ہوگی۔اللہ تعالیٰ کو اُن دونوں کا اس دنیا میں ملنا منظور نہ تھا۔ان کی وفات ہوگئی اور میری امی جان جنازے میں بھی شامل نہ ہوسکیں جس کا انہیں شدید صدمہ تھا۔امی جان کی تکلیف شدت پکڑ گئی۔مجھے اپنی عدت اور غم بھول گیا۔سامی صاحب کے ہسپتال کے چکر ابھی ختم ہی ہوئے تھے کہ امی جان کے شروع ہو گئے ، پھر پورے پانچ ہفتوں کے بعد امی جان کی وفات کا صدمہ سہنا پڑا۔کیا بتاؤں کہ کون ساغم زیادہ تھا اور کون ساغم کم۔اس ماں کا جس نے مجھے زندگی دی، جینے کے گر سکھائے یا اس کا جو میری زندگی کا ساتھی تھا، جس نے زندگی بھر ساتھ نباہنے کا وعدہ کیا تھا۔میں اُن دو ہستیوں سے محروم ہوگئی جن کے گرد میری زندگی گھومتی تھی۔میں بظاہر نارمل تھی پر دل کے اندر تنہا غم سے چور، پارے کی طرح ڈولتی تھی۔امی جان کا گھر میں آخری دن جس دن تکلیف زیادہ بڑھی اور ہسپتال جانے کی تیاری کی تو ہسپتال جانے سے پہلے مجھے ساری باتیں سمجھا ئیں اور بتایا کہ یہاں میرا پاسپورٹ ہے، فلاں جگہ پر پیسے پڑے ہیں۔ساری چیزیں جب اکٹھی ہو گئیں تو کہنے لگیں کہ تمہارے ابا جان کو یہ چیزیں نہیں ملیں گی۔اس لیے سب سنبھال کر خالد کو دے دینا۔پھر کہا اب تم فون ملاؤ، بیٹیاں جو پاکستان میں تھیں اُن سب کو باری باری فون کیا اور خدا حافظ کہا۔پھر امریکہ میں اپنے بہن بھائیوں کو فون پر خدا حافظ کہہ کر ہسپتال چلی گئیں۔ایمبولنس میں جاتے ہوئے اپنے ہاتھ سے الیس الله بکاف عبدہ کی انگوٹھی اتار کر مجھے دی اور کہا وہاں ہاتھ کبھی صاف نہ ہوں تو اس انگوٹھی کو پہنا اچھا نہیں ہوگا۔میں اور خالد کی بڑی بیٹی طاہرہ (227)