میری پونجی

by Other Authors

Page 228 of 340

میری پونجی — Page 228

ہم دونوں امی جان کے ساتھ تھے۔وہاں ہسپتال میں بھی پردے کی فکر۔مرد نرس سے کوئی کام کروانا نہیں چاہتی تھیں۔بے شک ہل نہیں سکتی تھیں مگر سب ملنے والوں کے ساتھ ایسے ہی بات کرتیں جیسے کوئی بات ہی نہیں۔جو رات ان کی زندگی کی آخری رات تھی اس سے پہلی شام کو میں اُن کے پاس تھی۔ابا جان گھر تھے اور بہت پریشان اور نڈھال تھے۔میں نے امی سے کہا ابا جان کو بلوالوں؟ کہنے لگیں نہیں اُن کو آرام کرنے دو کیوں اُن کو بے آرام کرتی ہو۔ساتھ ہی میری طرف دیکھا اور کہنے لگیں کیوں تمہیں کیا لگتا ہے میں دنیا سے جارہی ہوں؟ میرا دل ڈر گیا۔میں نے جواب دیا نہیں امی میرا مطلب ہے کہ ابا جان آپ کے پاس آجائیں۔بولیں اُن کو بے آرام نہ کرو۔جاتے جاتے بھی ابا جان کی فکر تھی۔آنکھوں۔ނ اتنی فکروں والی ، ہر ہر قدم پر ہمارا سوچنے والی، ہمارے دکھوں میں دیکھی ، خوشیوں میں خوشی منانے والی، رات رات بھر جاگ کر ہمارے لیے دعائیں کرنے والی ، بظاہر ہماری آنکہ اوجھل ہو گئیں ہیں لیکن وہ ہر وقت ہمارے ساتھ ہوتی ہیں۔کوئی پل کوئی لمحہ ایسا نہیں ہوتا جب میں یہ نہ محسوس کروں کہ امی ہمارے پاس نہیں۔ہر وقت ساتھ رہتی ہیں۔یادوں میں، دعاؤں میں۔اُن کی دعائیں، اُن کی باتیں ، ان کی یادیں جو ہماری زندگی کا سرمایہ ہیں وہ ہر وقت ہمارے پاس ہیں۔میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتی ہوں اللہ تعالیٰ اُن کو وہاں بھی اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا کرے۔خدا کرے کہ اگلے جہاں میں بھی ہمیشہ آپ خدا تعالیٰ کے پیار کی جنت میں رہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کے درجات بلند سے بلند تر فرماتا چلا جائے اور جنت الفردوس میں اپنے پیاروں کے ساتھ اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔اللہ تعالیٰ پیاری امی جان کی ساری اولاد کو ان کی نیکیوں کا وارث بنائے اور ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پہ چلنے کی توفیق عطا کرے آمین۔امی جان کی وفات سے مجھے یوں لگا جیسے میں دعاؤں کے سرچشمے سے محروم ہو گئی ہوں۔اللہ تعالیٰ اُنکی مغفرت فرمائے۔صرف امی جان کی ہی خوبیاں بیان کرنے لگوں اور لکھتی چلی جاؤں تو کبھی ختم نہ ہوں۔(228)