میری پونجی

by Other Authors

Page 226 of 340

میری پونجی — Page 226

آہستہ فرق پڑا اور مکمل طور پر ٹھیک ہو گئے۔الحمد للہ۔امی میرے ابا جان کی بہت خدمت گزار تھیں۔ان کی خدمت میں کبھی کوئی کسر نہیں آنے دیتی تھیں۔چھوٹے سے چھوٹا کام بھی ابا جان کی اجازت کے بغیر نہیں کرتی تھیں۔امی اباجان نے ایک دوسرے کی بے حد عزت کی، خدمت کی، ایک دوسرے سے تعاون ، محبت، ہمدردی ، احترام و تکریم اور ایثار کا ایک نمونہ بنے رہے۔یہ کہوں تو سچ ہوگا کہ ان کو دیکھ کر رشک آتا تھا ماشاء اللہ۔دونوں کی زندگی بہت جفاکشی اور قربانیوں سے بھر پورگزری ہے۔اباجان لندن کے جلسہ سالانہ پر ایک مہینہ پہلے لنگر خانہ کے کام کیلئے اسلام آباد چلے جاتے تھے۔امی ہمیشہ ان کا کھانا گھر سے تیار کر کے بھجواتیں۔کھانے میں ابا جان کے دوستوں کا حصہ ضرور ڈالتیں۔سچ تو یہ ہے کہ اباجان نے بھی امی جان کی جی بھر کے خدمت کی۔چونکہ دونوں فلیٹ میں اکیلے رہتے تھے ، دونوں ہی ایک دوسرے کا سہارا بنے رہے۔بے شک وہ دونوں اکیلے اپنے فلیٹ میں رہتے تھے مگر ہم سب باری باری جاتے رہتے تھے لیکن میرے بھائی خالد اور اس کی بیوی بچوں کو زیادہ خدمت کرنے کی توفیق ملی۔حقیقت میں اُس نے بیٹا ہونے کا حق ادا کیا جی بھر کے خدمت کی۔اللہ تعالیٰ اس کو ان تمام نیکیوں کا اجر عظیم عطا کرے۔آمین۔اب میں امی کی آخری بیماری کا ذکر کرتی ہوں۔آپ بہت لمبی بیمار نہیں ہوئیں۔کمر میں تکلیف ہوئی لیکن پھر بھی ہلکے پھلکے اپنے کاموں میں مصروف رہتیں۔اُن کی بیماری کا ایک واقعہ لکھ دیتی ہوں اس سے آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ کس حد تک باہمت اور مہمان نواز تھیں۔آپ کی کمر میں زیادہ تکلیف ہوئی تو خالد کو فون کر کے بتایا کہ میری طبیعت بہت خراب ہے۔اُس نے ڈاکٹر کو فون کیا اور ساتھ خالد نے کہا باہر کا دروازہ کھلا ہی رہنے دیں۔تھوڑی دیر کے بعد جب ڈاکٹر صاحب گھر آئے تو امی نے ہاتھ میں بڑے پکڑی ہوئی تھی اور ڈاکٹر صاحب کو کھانا پیش کر رہی تھیں۔ڈاکٹر صاحب نے پوچھا بیمار کون ہے؟ تو بولیں میں ہوں۔ڈاکٹر صاحب یہ کہہ کر چلے گئے کہ آپ بالکل ٹھیک ہیں۔ڈاکٹر صاحب ہمارے اپنے احمدی دوستوں میں سے ہی تھے، اُنہوں نے خالد کو بتایا کہ اپنی امی (226)