میری پونجی

by Other Authors

Page 219 of 340

میری پونجی — Page 219

بہوؤں کا بھی خیال کرتیں۔پھر ہم بہنیں بھی چڑیاں دا چنبہ ہوگئیں۔ربوہ میں ہمیں کلر سے گھبراہٹ تھی، چوروں اور آندھیوں سے ڈرتے تھے۔اکثر سوچتے تھے کہ کیا کبھی ہم بھی اپنے ابا جان کے پاس جا سکتے ہیں؟ وہ سچ ہو گیا اب ایسے نکلے ہیں کہ باہر کے ہی ہو کر رہ گئے۔میں صرف دس سال ربوہ میں رہی ہوں باقی ساری زندگی ربوہ سے باہر ہی گزری ہے مگر نہ دل سے یاد یں جاتی ہیں اور نہ وہاں کی باتیں ختم ہوتی ہیں۔جس جامعہ کے گراؤنڈ کو ریگستان کہتی تھی وہاں آج اتنی بڑی پھلوں اور پھولوں کی نرسری ہے جو سارے ربوہ کو گل و گلزار بنا رہی ہے اور ساتھ ہی جامعہ کی اتنی بڑی بلڈنگ ہے جس سے گوہر پارے تیار ہو کر ساری دنیا کو سیراب کر رہے ہیں اور روشنیاں بن کر چمک رہے ہیں۔ربوہ جاتی رہتی ہوں مگر ہمارے والے ربوہ میں اور آج کے ربوہ میں زمین آسمان کا فرق ہے۔لہلہاتے درخت، پھول، سبزہ ، رونقیں۔دل تو چاہتا کے پھر اپنے اسی گھر میں واپس چلی جاؤں جو ہمارا گھر تھا۔میرے ماں باپ کا گھر، میری بہنوں اور بھائی کا گھر، جس کی مجھے بہت یاد آتی ہے۔جہاں رات بھر چاندنی راتوں کا نور دیکھتے ، ستاروں کو گنتے ، چوروں سے ڈرتے دن نکل آتا تھا۔ان بیتے دنوں کی یاد مجھے بہت ستاتی ہے۔میں جانتی ہوں کہ آج بھی خدا کے فضل سے ربوہ کے سر پر وہی چاند اور روشن ستارے چمک رہے ہونگے جن کو میں اپنا کہتی تھی۔خدا کرے کہ چاند اور وہ روشن ستارے میرے تمام ربوہ کے باسیوں کو سکھ اور سکون پہنچاتے رہیں اور ہمیں مرکز سے خوشی کی خبریں آتی رہیں۔آمین۔میرا بھی جواب نہیں ! اپنی امی جان کے متعلق لکھ رہی تھی ربوہ کے ذکر نے مجھے اصل مضمون کی طرف سے ہٹادیا۔ربوہ کی بات ہو تو جذباتی ہو جاتی ہوں، دوبارہ واپس امی جان کی طرف آتی ہوں۔1974ء میں ہماری جماعت پر جب بہت مشکل وقت آیا تو ربوہ کی نسبت باہر کی جماعتوں کو زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔زیادہ تر لوگ اپنے مرکز کی طرف ہی رخ کر رہے تھے۔اسی طرح باقی لوگوں کی طرح چنیوٹ میں میرے سسرال والے بھی مشکلات میں گھر گئے۔اپنا تمام گھر بار (219)