میری پونجی — Page 218
لحاظ کرتے ہوئے وہ جو کام بھی کہتیں وہ ہمیں ضرور کرنا ہوتا تھا اور جاتے ہوئے جو وہ دعائیں دیتیں ہمیں اور ہماری امی کو ان دعاؤں سے ہر کام کا صلہ مل جاتا۔اُس نا مساعد دور میں بھی ہمارے گھر میں بجلی کا پنکھا لگا ہوا تھا۔محلے کی عورتیں اکثر ہمارے گھر آتی جاتی رہتی تھیں۔امی اپنی سہیلیوں کو کھینچ کھینچ کر بلاتیں کہ آؤ اور دو پہر پنکھے کے نیچے گزارو۔کبھی کبھی تو سہیلیاں ایسے بھی آتیں کہ جانے کا نام نہیں لیتی تھیں۔ہماری امی تو ثواب کما رہی ہوتیں مگر کبھی کبھی میرا چھوٹا شرارتی بھائی امی کے کان کے پاس آکر کہتا امی خالہ گھر کب جائیں گی ؟ گھر میں فرج تھا اس میں پانی رکھتیں اور برف بنا بنا کر کوشش کرتیں کہ ہر ایک کو برف مل جائے۔ہمارا گھر کالج روڈ پر جامعہ احمدیہ کے سامنے تھا۔جمعہ پر جاتے ہوئے بہت سارے لوگ ہمارے گھر کے آگے سے گزرتے۔گرمیوں میں خاص طور پر جمعہ والے دن پانی کے حمام میں برف ڈال کر باہر رکھ دیتیں تا کہ لوگ گرمی میں ٹھنڈا پانی پی سکیں۔لوگ پانی پیتے اور دعائیں دیتے ہوئے گزر جاتے۔ربوہ اور امی جان کی یادوں میں جہاں اتنا کچھ لکھ دیا ہے تو میں اپنے اُس ریگستان کو کیسے بھول سکتی ہوں جہاں ہم گرمیوں کی ہر شام میں ہم اندھیرا ہونے کا انتظار کرتے اور چاندنی راتوں میں سب لڑکیاں اپنے محافظوں کے ساتھ سیر کے لیے نکل آتیں۔عمروں کے لحاظ سے ٹولیاں بن جاتیں، محافظوں میں ہماری مائیں ہوتیں اور لڑکیوں میں سید سردار حسین صاحب کی بیٹیاں اور ہماری خالہ جی سائرہ کی بیٹیاں۔ہم سب ہمجولیاں ہوتیں۔وہاں ان چاندنی راتوں میں میری چھوٹی بہنوں نے سائیکل چلانا بھی سیکھا۔یہ ہماری جامعہ کی گراؤنڈ تھی جو چٹیل میدان تھا، مجھے اچھی طرح تو یاد نہیں اُس وقت غالباً چند کمروں کی بلڈنگ ہی پورا جامعہ تھا۔ہم سب بڑے ہو گئے ، شادیاں شروع ہوگئیں ، میری بڑی بہن کی شادی ہو گئی۔ہمارے ہمسائے بھائیوں کی بھی شادیاں ہو گئیں۔میری امی جان نے اور ہم سب نے بھر پور حصہ بھی لیا بلکہ اُن نئی بہوؤں کو بھی ماں کی طرح پیار دیا۔عید پر جیسے ہمیں چوڑیاں اور مہندی لگواتیں اُسی طرح اُن (218)