میری پونجی

by Other Authors

Page 220 of 340

میری پونجی — Page 220

میری یونجی اسی طرح کھلا چھوڑ چھاڑ سیدھے ربوہ امی جان کے گھر آگئے۔دس بارہ افراد کا کنبہ ایک گھر میں رکھنا بہت مشکل تھا۔مگر میری امی جان نے بہت خندہ پیشانی سے ان کو خوش آمدید کہا اور تمام کھانے وغیرہ کا انتظام بھی گھر پر ہی کرتی رہیں۔امی جان کا گھر ہی لنگر خانہ بنارہا لیکن جب تقریباً دو ماہ کا لمبا عرصہ اُن کو رہنا پڑا تو پھر کھانا گھر میں بھی بنتا اور کچھ لنگر سے بھی آجاتا، لیکن امی نے ان کی رہائش اپنے گھر ہی رکھی۔خالہ جی سردار جن کے ساتھ امی جان کا خون کا رشتہ تو نہیں تھا مگر پیار اُن تمام رشتوں سے زیادہ تھا جو بہت قریب کے رشتے ہوتے ہیں۔یہ دونوں بہنیں بھی تھیں اور بہت پکی سہلیاں بھی تھیں۔بچپن بھی ایک گھر میں گزرا تھا۔خالہ جی جب لاہور سے مستقل ربوہ میں آکر آباد ہوگئیں تو میری امی جان بہت خوش ہو ئیں ، گھر بھی قریب قریب تھے۔بس اب کیا تھا ہر وقت دونوں بہنیں صبح سویرے اُٹھتیں تھیلا پکڑتیں اور بازار کا رخ کرتیں۔واپسی پر پہلے ہمارا گھر آتا تھا ہمارے ہی گھر میں بیٹھ کر دونوں بہنیں سبزی وغیرہ بناتیں اور جانے کیا آہستہ آہستہ باتیں کرتی جاتیں اور مسکراہٹ ہونٹوں پر ہوتی۔دونوں کا ایک جیسا قد ، ایک جیسے برتھے پہنتیں، پہچانی ہی نہیں جاتیں تھی کہ کون خالہ جی ہیں اور کون سی ہماری امی ہیں۔بہت پیار تھا دونوں بہنوں کا ، اچھی اچھی باتیں ہمیں بتا تیں اور ہمیشہ اچھے مشوروں سے بھی نواز تی تھیں، اللہ پاک دونوں کی مغفرت فرمائے۔آمین۔اب میں امی جان کا ایک ایسا واقعہ لکھوں گی جو شاید ہی کسی کے ساتھ پیش آیا ہو۔یہ بھی ربوہ میں شروع دنوں کی بات ہے جب کہ ٹائلٹ میں نہ فلش سسٹم تھا اور نہ ہی کموڈ وغیرہ کی کوئی سہولت تھی۔جمعدار نی ٹوکری لیکر آتی تھی اور گند وغیرہ اُٹھا کر لے جاتی تھی۔ہماری جمعدار نی ماں بننے والی تھی ہماری امی جان کو علم تھا۔ہم بچے یہ سب کچھ نہیں جانتے تھے، کیونکہ اُس زمانہ میں بچوں کے سامنے ایسی باتیں نہیں کی جاتی تھیں۔مگر ہم یہ ضرور دیکھتے تھے کہ ہماری امی جمعدار نی کا اتنا خیال کیوں رکھتی ہیں۔کھانے سے پہلے ہمیشہ اسکے لیے اچھی چیز نکال کر رکھتیں۔آہستہ آہستہ (220)