میری پونجی — Page 217
سامنے کیا رکھوں گی۔مجھے اُن کا یہ نرالا انداز سمجھانے کا یا منع کرنے کا بہت اچھا لگا۔مجھے کھانے سے بھی منع نہیں کیا اور اپنی مجبوری بھی بتادی کہ اگر یہ سب ابھی ختم ہو گیا تو فوری طور پر بازار جانا اور کچھ لا نا ممکن نہیں تھا۔ربوہ میں ہمسائیوں کے متعلق تو میں کچھ پہلے ہی لکھ چکی ہوں۔چونکہ پرانی باتیں لکھتے ہوئے مجھے بہت مزا آرہا ہے اور یادیں بھی تازہ ہو رہی ہیں اس لیے دل نہیں چاہتا کہ کوئی بھی پرانی بات جو مجھے یاد آ رہی ہو وہ نہ لکھوں۔دونوں طرف کے ہمسائیوں کی چھوٹی چھوٹی سی دیواریں ہوتی تھیں اور دیواروں کے اُوپر ایک الگ سے چھوٹی سی اینٹ رکھی ہوتی۔ضرورت کے وقت اُس اینٹ کو بجایا جا تا کہ خالہ جی بھوک لگی ہے، کیا پکایا ہے؟ خالہ جی پہلے ہی تیار بیٹھی ہوتیں کہتیں بچوں کو بھوک لگی ہوگی، ان کی کون سی ماں بیٹھی ہے۔ہمسائیوں کے ساتھ ہمسائیوں جیسا سلوک ہی نہیں تھا اپنوں سے بھی زیادہ پیار تھا۔دونوں طرف والے ایسے ہی ہمسائے تھے کس کے گھر کیا پکا سب کو علم ہوتا۔جب تک ایک دوسرے کو دے نہ دیا جائے خود کھا ہی نہیں سکتے تھے۔پکانے سے پہلے ہی یہ سوچ کر کھانا بنتا تھا کہ ہمسایوں کا بھی حق ہے۔ہمسائے، ہمارے ہمسائے نہیں بلکہ ہم سب ایک کنبہ کی طرح رہتے تھے۔ہمارے سب دکھ سکھ ایک تھے۔الحمد للہ۔آج میں یہ پورے وثوق سے کہہ سکتی ہوں کہ مجھے نہیں یاد کہ کبھی امی کے پاس کوئی حاجت مند آیا ہو اور اسکی حاجت پوری نہ ہوئی ہو۔حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنا اپنا فرض سمجھتی تھیں۔پیار اور ایثار کا دامن ہر وقت تھامے رہتیں۔ہماری ایک بہت ہی عمر رسیدہ ہمسائی جو آنکھوں کی بینائی سے محروم تھیں اپنے گھر والوں سے بہت دکھی رہتی تھیں۔اکثر اپنے گھر سے نکلتے ہی آواز دینا شروع کر دیتیں (بسم اللہ ) امی کو وہ اس نام سے ہی پکارتی تھیں۔گھر کے آندر آتے ہی ان کی فرمائشیں شروع ہو جاتیں۔پہلے کھانا کھاتیں پھر ہم سب کے آگے اپنا سر کرتیں کہ بہت خارش ہو رہی ہے۔میرے بال صاف کرو۔اُن کی عمر کا (217)