میری پونجی — Page 216
ایک ماموں زاد بہن کو شادی کے کچھ ہی عرصہ بعد اس کے شوہر نے طلاق دے کر گھر بھیج دیا اور چھ ماہ کی بچی کو خود رکھ لیا۔جہاں یہ غمناک حادثہ میری کزن کیلئے پریشانی کا باعث تھا وہاں ساری فیملی بہت دکھی تھی۔میری کزن کا اکثر ہمارے گھر آنا ہوتا اور جب بھی وہ آتیں ہم سب اس کے دکھ سے بہت دکھی ہو جاتے۔میری امی نے اُس کا یہ حل ڈھونڈا کہ ان کی ہمت بڑھائی اور اپنی تعلیم مکمل کر نے کا مشورہ دیا ان دنوں میٹرک کے داخلے جا رہے تھے اس کو داخلے کی تاکید کی۔کیونکہ وہ مالی لحاظ سے بھی کمزور تھیں امی نے کہا تم اپنی بہن کو جس نے مڈل کا امتحان دینا تھا اس کو ٹیوشن پڑھانی شروع کر دو ( یعنی میری بڑی بہن)۔اس طرح انہوں نے اپنی تعلیم مکمل کر لی۔وہ بہت خوش ہیں ، آج وہ کہتی ہیں کہ میں پھوپھی جان کی نیکی اور وہ دعائیں جو وہ دروازہ سے نکل کر جانے کے بعد تک کرتی رہتی تھیں کبھی نہیں بھول سکتی۔یہی میری ماموں زاد ایک واقعہ یوں بیان کرتی ہیں: میں اور میرا بھائی ہدایت پھوپھی جان کے پاس رات کو سونے کیلئے جاتے تھے۔چھوٹا سا کچا گھر تھا۔پھوپھا جان افریقہ گئے ہوئے تھے اور ابا جان ہمیں پھوپھی جان کے پاس سونے کیلئے بھجواتے تھے۔صبح پھوپھی جان الوداع کرنے کیلئے دروازہ میں کھڑی رہتیں اور جب تک ہم اُن کی نظروں سے اوجھل نہ ہو جاتے وہ کھڑی ہمارے لیے دعائیں کرتی رہتیں اور اُن کے ہونٹ ہلتے ہوئے ہمیں نظر آتے اور ہم بھی پیچھے مڑمڑ کے دیکھتے رہتے۔کہتی ہیں کہ ایک بار میں پھوپھی جان کے پاس گئی۔انہوں نے کچھ سوجی میدہ کی میٹھی کچوریاں بنا کر الماری میں مہمانوں کیلئے رکھی ہوئی تھیں۔اُنہوں نے مجھے بھی دیں اور دوسرے بچوں کو بھی دیں۔مجھے بہت اچھی لگیں تو میں نے نکال نکال کر کھانا شروع کر دیں۔مجھے تو کچھ نہ کہا مگر آپ ( یعنی مجھے۔راقم ) کو مخاطب کر کے کہا صفیہ یہ مہمانوں کیلئے بنائی ہوئی ہیں۔تمہیں پتہ ہے بازار دور ہے کوئی کچھ لانے والا بھی نہیں ہوتا۔اُس وقت میں فکرمند ہو جاتی ہوں کہ مہمانوں کے (216)