میری پونجی — Page 204
میری یونجی ہی شکست نہ ماننے والی روح اور صبر سکون کا مجموعہ تھیں۔حالات سے لڑنے کی بے پناہ توانائی اُن میں تھی۔میرے ابا جان فیروز پور میں تھے اور امی جان قادیان میں۔اُن دنوں شاید ہندومسلم فساد شروع ہو چکے تھے۔ہم چار بہنیں اور امی ہی رہتے تھے۔جگہ کا تو مجھے یاد نہیں کہ کون سی تھی مگر اتنا یاد ہے کہ امی ہمیں سلا کر خود سر پر پگڑی پہنے ہاتھ میں موٹا سا ڈنڈا لیے پوری رات چھت پر گزار دیتی تھیں۔( اللہ ان کو اجر عظیم عطا کرے) پھر جب پاکستان بن گیا ، زندگیوں میں بے شمار اتار چڑھاؤ آئے۔کچھ دیر کیلئے ہم پنڈی بھٹیاں اپنی خالہ جی صالحہ (مرحومہ) کے ساتھ رہے اور وہاں اُن سے میں نے قرآن کریم پڑھا۔پھر ہم گھوم پھر کے کچھ دیر کیلئے فیصل آباد رک گئے ، جہاں اللہ تعالیٰ نے ہمیں زندگی کی سب سے بڑی خوشی دی یعنی ہم چار بہنوں کے بعد بھائی سے نوازا اور اس بھائی کے آنے پر بھی امی کی بے مثال قربانی ہے۔جن دنوں میرا بھائی دنیا میں آنے والا تھا ، ان ہی دنوں مرکز سے رضا کار بھجوانے کی تحریک ہوئی۔محاذ پر جانے کیلئے جن صاحب کا نام تجویز ہوا وہ اپنی کاروباری مجبوریوں کی وجہ سے جانہیں سکتے تھے۔انہوں نے تجویز کیا کہ ان کی جگہ کسی دوسرے شخص کو بھجوادیا جائے اور وہ اس کا خرچ برداشت کریں گے۔جماعت کی نظر انتخاب میرے ابا جان پر پڑی لیکن میرے ابا جان کی مجبوری یہ تھی کہ سب بچے چھوٹے چھوٹے تھے اور امی امید سے تھیں۔جماعت کی تجویز اور اپنی ساری فکروں کا اظہار جب امی جان کے ساتھ ابا جان نے کیا تو امی کا جواب یہ تھا کہ اگر آپ کو محاذ پر جانے کا کہا جارہا ہے تو آپ کو ضرور جانا چاہئے ، آپ میری فکر نہ کریں۔دنیا میں بے شمار ایسی بھی عورتیں ہوتی ہے جو جنگلوں میں بچوں کو جنم دیتی ہیں، آپ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں اور ضرور جہاد میں شامل ہوں۔یہ حوصلہ افزا جواب سن کر ابا جان نے جانے کی تیاری کر لی۔ہمارا گھر فیصل آباد کی مسجد کے بالکل سامنے تھا ، اُن دنوں وہاں کے مربی مکرم مولوی اسماعیل صاحب دیا گڑھی تھے۔مولوی صاحب اور اُنکی بیگم خالہ جی نے ہمارا بہت خیال رکھا۔وہ یہ جانتے تھے کہ (204)