میری پونجی

by Other Authors

Page 203 of 340

میری پونجی — Page 203

چوہدری بھی تھے اُن کے گھر کوئی شادی تھی اور جانا ضروری تھا۔والد صاحب شہر سے باہر گئے ہوئے تھے۔سب گھر کی عورتوں نے امی جان کو جانے کیلئے مجبور کیا۔اس وقت امی کی گود میں مجھ سے چھوٹا میرا بھائی رشید تھا۔اُس کی طبیعت پہلے ہی کچھ خراب تھی جس وجہ سے وہ شادی میں نہیں جانا چاہتی تھیں۔مگر سب کے مجبور کرنے پر امی جان شادی میں چلی گئیں۔وہاں جا کر بچے نے قے کی جس کی وجہ سے اُس کی حالت زیادہ خراب ہوئی۔امی جان یہ سوچ کر کہ شادی میں بدمزگی پیدا نہ ہو کوئی بہانہ بنا کر گھر آگئیں۔پھر ایک دو دن کے بعد بچہ کی وفات ہو گئی۔امی کے صبر اور قربانی کی مثال ملنی بہت مشکل ہے۔اُن کو اپنے جذبات پر قابورکھنا بہت اچھی طرح آتا تھا۔امی جان پیار و ایثار کا دامن ہر وقت تھامے رہتیں ، سب کے دلوں میں آسانی سے جگہ بنالیتیں۔دوسروں کی ضرورت کو بہت جلد بھانپ لیتی تھیں۔میرے ابا جان کے دو بھائی تو پہلے ہی افریقہ میں تھے ، جب تیسرے بھائی کے جانے کا وقت آیا تو سب سے بڑا مسئلہ اُس رقم کا تھا جو سفر کے لیے اُن کو چاہئے تھی۔رقم دینے کیلئے گھر میں سب نے جواب دے دیا ، جب میری امی جان کو علم ہوا تو اُنہوں نے فوراً اپنا سارا زیور نکال کر میرے ابا جان کو کہا کہ یہ زیور محمود کو دے دیں تا کہ وہ اپنا ٹکٹ وغیرہ کا انتظام کر لے۔میرے ابا جان کو یہ پسند نہ آیا کہ میری بیوی اپنا سارا زیور نکال کر دے دے۔ابا جان جانتے تھے کہ عورتوں کو زیور کتنا پیارا ہوتا ہے لیکن میری امی جان نے کہا زیور تو پھر بھی بن سکتا ہے مگر ابھی جو ضرورت ہے وہ پوری ہونی چاہئے۔پھر اپنا سارا زیور چچا جان کو دے دیا جس سے اُنہوں نے اپنا ٹکٹ لیا اور اپنی منزل مقصود پر پہنچ گئے۔میرے چا ہمیشہ میری امی جان کی اس نیکی کی تعریف کرتے اور اپنے بچوں کو ایثار کا سبق دیتے۔باوجود اس کے کہ گھر میں سب غیر احمدی تھے مگر پھر بھی سب غیر احمدی رشتہ داروں نے قادیان کی زیارت بھی کر لی تھی ، خاص طور پر میری تائی اماں کا چکر تو میری وجہ سے لگتا ہی رہتا تھا۔مجھے چھوڑنے آنا یا لے کر جانا۔مجھے یاد ہے کہ میں اُن دنوں اپنی امی جان کے پاس قادیان میں تھی۔میری امی شروع دن سے (203)