میری پونجی

by Other Authors

Page 205 of 340

میری پونجی — Page 205

ابا جان جارہے ہیں اور امی کس حال میں ہیں اس لیے وہ ہر وقت ہماری مدد کیلئے تیار رہتے تھے۔بعد میں میرے بھائی محمد اسلم خالد کی پیدائش 20 فروری 1950ء کو ہوئی۔میں اُس وقت گیارہ سال کی تھی۔میں اپنی امی جان کی مددگار بھی تھی۔جانے سے پہلے ابا جان مجھے ایک دن اُس دائی کا گھر دکھانے کیلئے لے گئے کہ جب تمہاری امی اس عورت کو بلانے کیلئے کہیں تو یہ برکت بی بی کا گھر ہے تم اس کو لینے آجانا۔وقت آنے پر میری امی نے کہا جاؤ جا کر خالہ جی کو بلا کر لاؤ۔خالہ جی آئیں تو میں خالوجی کے ساتھ برکت بی بی کو بلانے چلی گئی۔رات کا وقت تھا۔ایک جیسی ساری گلیاں تھیں۔میں آدھی سوئی آدھی جاگی ہوئی بھول گئی کہ کہاں جانا ہے، اب خالو جی بار بار مجھے پوچھ رہے ہیں کہ بیٹی بتاؤ کونسا گھر ہے ، بیٹی کو خود سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا بتاؤں کہاں جانا ہے اور کون سا گھر ہے؟ گھر ڈھونڈتے ہوئے ایسا بھی ہوا کہ سامنے ریت کا ڈھیر پڑا ہوا تھا اندھیرے میں خالو جی کو لگا کہ پانی ہے۔جب ریت سے سائیکل ٹکرایا تو ہم دونوں منہ کے بل ریت پر گرے۔ریت جھاڑتے ہوئے اُٹھ کر پھر برکت بی بی کا گھر ڈھونڈنا شروع کیا۔یہ تو اللہ کا شکر ہے کہ برکت بی بی نام یا درہ گیا تھا۔پھر ہمیں چوکیدار کی آواز آئی ! جاگتے رہو! ہم فوراً اُس آواز کی طرف گئے اور اُن سے برکت بی بی کا گھر پوچھا۔وہ ہمیں برکت بی بی کے گھر تک لیکر گئے۔الحمد للہ ! پھر ہم اُس برکتوں والی برکت بی بی کو گھر لیکر آئے۔آج میں اپنی اُمی جان کے بارے میں سوچ کر حیران اور پریشان ہوتی ہوں کہ کیسے انہوں نے اتنے مشکل مراحل میں اپنے آپ کو کنٹرول میں رکھا ہو گا۔خاوند پاس نہیں ، مالی مجبوریاں اپنی جگہ۔بچے سب چھوٹے چھوٹے تھے۔نہیں جانتی اُس مشکل وقت میں وہ کیا دعائیں کرتی ہوں گی۔میں امی جان کی بہادری اور ہمت کو سلام کرتی ہوں۔کاش کہ میری امی جان نے اتنے مشکل وقت نہ دیکھے ہوتے۔اللہ تعالیٰ اُن کو جزائے خیر دے اور جنت الفردوس میں تمام نیکیوں کا بدلہ دے آمین۔حضرت مولوی دیا لگڑھی صاحب اور انکی بیگم کی بہت ساری نیکیاں ہیں جو انہوں نے ہمارے (205)