میری پونجی

by Other Authors

Page 202 of 340

میری پونجی — Page 202

میری یونجی امی جان نے اپنے لیے اس ماحول کو مشکل نہیں بنایا بلکہ ان سب کے ساتھ ایسا سلوک کیا کہ وہ سب میری امی جان کے گن گانے لگے۔اپنے حسن سلوک سے سب کے دل جیت لیے۔ہر شخص اُن کی تعریف کرنے پر مجبور ہو گیا۔خاص طور پر میرے دادا جان کی خوشی کی انتہا نہ تھی۔مگر زیادہ بات نہیں کرتے تھے۔دعاؤں پر زور تھا کہ اللہ کرے کہ میری اس بہو کا آنا سارے گھر کیلئے با برکت ہو۔اُمی جان کے طور طریقوں سے گھر کی فضا میں تھوڑ ا سکون سا ہو گیا کہ امی نے ساری مخالفت میں اپنی ناراضگی کا اظہار نہیں کیا بلکہ ہر بات کو سمجھداری سے سنبھال لیا اور کوئی موقع اُن کو نہیں دیا کہ وہ کوئی اعتراض کر سکیں۔پھر امی جان کی سمجھ داری کی تعریفیں شروع ہو گئیں۔ہر معاملہ میں امی جان سے مشورہ لینا ضروری ہو گیا۔اب کوئی بھی کام کرنے سے پہلے کہا جاتا بہو سے پہلے پوچھیں ، میری امی اس گھر کی مشیر ہو گئیں۔( میری امی کو سب بہو کہہ کر بلاتے تھے ) امی جان کی اس گھر میں شادی سے جو کمزور سا احمدیت کا پودا تھا اُس کی آبیاری شروع ہو گئی۔امی جان کے رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کے جو ہر کھل کر سامنے آنے شروع ہو گئے۔احمدی اور غیر احمدی سب امی کی عزت کرتے اور راہنمائی حاصل کرتے۔ابا جان کی ایک پھوپھی حاجن تھیں جن کی گھر میں بہت عزت کی جاتی تھی۔وہ احراریوں کے لیڈر عطاء اللہ شاہ بخاری کی بہن بنی ہوئی تھیں۔وہ میری امی کی شدید مخالفت کرتی تھیں۔میری امی کو سختی سے منع تھا کہ جب وہ اس گھر میں ملنے کیلئے آئیں تو میری امی اُن کے سامنے نہ جائیں۔مگر میری امی جان ہمیشہ اُن کو گھونگٹ نکال کر سلام کرنے آجاتیں۔کیونکہ امی جان نے تعلیم ہی یہ پائی تھی کہ ؎ گالیاں سن کر دعا دو، پا کے دکھ آرام دو آرام دینا اور لوگوں کو سکھ پہنچانا اُن کی زندگی کا مقصد تھا۔ہر ایک کی مدد کرنا اُن کا شیوہ تھا۔کسی کا دکھ یا تکلیف اُن کی برداشت سے باہر تھی۔جہاں اُن کولوگوں کو سکھ پہنچانے کا گر آتا تھا وہیں اپنا دکھ چھپانا بھی وہ بہت اچھی طرح سے جانتی تھیں۔ہوا یوں کہ ہمارے ایک غیر احمدی تایا جی جو محلہ کے (202)