میری پونجی — Page 191
میرا نکن امی جان ابا جان کی سیرت پر میں کچھ لکھوں میرے پاس ایسے الفاظ کہاں کہ اُن بابرکت وجودوں پر میرا اقلم چلے۔سوچتی ہوں کہ کیسے لکھوں کہ کچھ تو اُنکی سیرت پیش کرنے کا حق ادا کرسکوں، میں اپنی پوری کوشش کرونگی۔لیکن تھوڑا سا پہلے اپنے بارے میں لکھ دوں کہ میں خود بھی اپنے والدین کے پاس تقریباً چودہ سال کی عمر میں آئی تھی۔میری امی جان گھر کا کام کر رہی تھیں ، میری بڑی بہن امی سے آم مانگ رہی تھی۔امی نے کہا تم کھڑکی میں سے دیکھو جب بیچنے والا آئے گا تو مجھے بتانا۔پھر میری بڑی بہن گھر کی پہلی منزل پر کھڑکی سے باہر جھانکتے ہوئے آموں والے کا انتظار کرتی ہوئی سر کے بل کھڑکی سے باہر گری اور گرتے ہی بے ہوش ہو گئی۔لوگوں نے شور مچایا ، امی جان نے باہر دیکھا تو اپنی ہی موہنی صورت خون میں نہائی پڑی دیکھی۔کیونکہ وہ سر کے بل گری تھی اُس کے سر میں شدید چوٹ آئی۔اُسی وقت بچی کو ہسپتال لیکر بھاگے۔خون میں لت پت بچی کو امی ابا جان گود میں لیکر دوڑتے رہے، کوئی ڈاکٹر اُس کے علاج کے لیے تیار نہ تھا۔ہر جگہ سے انکار کے بعد پھر وہاں کوئی برٹش ہسپتال تھا ، اُن ڈاکٹروں نے جب میری بہن کو دیکھا بے ہوش اور خون میں نہائی ہوئی بچی ، انہوں نے اُس کو فوراً داخل کیا ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ بچنے کی امید بہت کم ہے۔اُس ہسپتال کے انگریز ڈاکٹر تھے انہوں نے بفضل الہی میری بہن کی جان بچائی۔میری امی کو اُس کے ساتھ ہسپتال میں دو اڑھائی ماہ رہنا پڑا۔میری بہن کی عمر چار سال تھی جب کہ میں تقریباً ڈیڑھ دوسال کی ہونگی۔ہماری جائنٹ فیملی تھی۔اُوپر کی منزل میں میری امی اور نیچے میرے تایا تائی میرے دادا اور تین چچا بھی رہتے تھے۔میرے دادا جان کے علاوہ کوئی بھی احمدی نہیں تھا۔تایا تائی کی اپنی کوئی اولاد نہیں تھی ، اس طرح میں اُن کی لاڈلی اور آنکھ کا تارا بن گئی۔میری امی جان کی بھی اس لحاظ سے مدد ہو گئی کہ وہ پوری طرح سے اس بے حد بیمار بچی کی پوری طرح سے دیکھ بھال کر سکیں۔ویسے بھی گھر ہی کی تو بات تھی۔سب ہی (191>>