میری پونجی — Page 192
گھر میں تھے میں اوپر نیچے گھومتی رہتی مگر سوتی اپنی تائی کے ساتھ تھی۔میری امی کی غیر موجودگی میں میری تائی اماں کو میرے ساتھ اتنا پیار ہو گیا کہ وہ ایک پل بھی اپنے سے جدا نہ کرتیں۔جب میری امی جان بہن کے ساتھ گھر آ گئیں تو بھی میری بہن اتنی کمزور تھیں کہ اُس کو پورے وقت امی کی ضرورت تھی اور میں پوری طرح سے تائی اماں کی گود میں چلی گئی۔آہستہ آہستہ میری بہن کچھ بہتر ہوتی گئی۔ساتھ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بھائی سے بھی نواز دیا۔افسوس کہ بھائی رشید چھ ماہ کا ہوکر اللہ کو پیارا ہو گیا۔میں نے اپنی امی کو چی کہنا شروع کر دیا کہ میرے سب کزن یہی کہتے تھے اور میری تائی میری اماں ہو گئی کہ اس کو سب اماں ہی کہتے تھے۔میرے دادا جان کی وفات ہوگئی ، میرے تایا اور دو چچا ایسٹ افریقہ نیروبی چلے گئے۔اب میری تائی کے پاس میں اور میرے سب سے چھوٹے چارہ گئے۔میرے ابا جان جو کام کی غرض سے لدھیانہ سے باہر تھے۔امی کو بھی ان کے ساتھ جانا پڑا مگر میں اب اپنی اماں کو چھوڑ کر بھلا کہاں جانے والی تھی۔میری امی نے بھی سوچا ہوگا کہ یہ میری جیٹھانی میرے اتنا کام آئی ہیں ان کا دل نہ دکھے، بے اولاد تھیں، دوسری مائیں اپنے بچوں کو اُن کے پاس آنے نہیں دیتی تھیں۔اس لیے میری امی جان اُن کا دل بھی نہیں دکھانا چاہتی تھیں، مجھے اُن کے پاس چھوڑ دیتی تھیں۔میری تائی اماں میری امی سے بھی بہت پیار کرتی تھیں۔تائی اماں بھی وہ جوسب کے ساتھ بے انتہا پیار کرنے والی پانچ وقت کی نمازی دعا گورحم دل ہر چھوٹے بڑے کی خدمت کرنے والی۔اس لیے سب اسکو اماں ہی کہتے تھے۔پھر میں تو اس لحاظ سے بھی لاڈلی ہو گئی کہ میں اُس کی گود میں تھی۔میری جائز ناجائز ہر خواہش پوری کرنا اُس نے اپنی ذمہ داری سمجھ لی تھی ، جس کا میری عادتوں پر بھی اثر ہوا۔ضدی ہونا، اپنی ہر بات منوانی بگلی میں ہر پھیری والا جو بچوں کی چیزیں کھلونے یا کھانے کی چیزیں فروخت کرنے والا ہر کوئی ضرور ہمارے گھر کے آگے آکر آواز لگا تا۔اُن کو یہ علم ہو چکا تھا کہ یہ بچی ہمیں کچھ خریدے بغیر جانے نہیں دیتی۔میرے لیے اماں نے الگ سے پیسے رکھے ہوئے تھے کہ (192)