میری پونجی — Page 166
اچھا نہیں لگتا تھا۔ہمیشہ آپ کہتے چاہے کوئی چھوٹا ہو یا بڑا۔آج سامی ہم میں موجود نہیں ہیں۔مگر میں اُن کو ایک لمحہ کے لیے بھی نہیں بھول پائی۔کیسے بھولوں کہ ہزاروں احسان ہیں مجھ پر۔سامی اعلی تعلیم یافتہ تھے۔دینی لحاظ سے بھی اور دنیاوی لحاظ سے بھی۔بہت دھیما مزاج کم گو قلم کار اور بہت سی خوبیوں کے مالک تھے۔میرے پاس تو کچھ بھی نہیں تھا۔دنیاوی تعلیم یا دینی تعلیم دونوں بہت معمولی تھیں۔مگر سچ تو یہ ہے کہ کبھی بھی مجھے کسی بات کا احساس نہیں ہونے دیا۔پیار سے بن بتائے میری تربیت کرتے رہے۔بغیر کہے میرے داغ دھبے دھوتے رہے۔اس کے باوجود ہر معاملہ میں مجھ سے مشورہ کرتے کوئی بھی کام مجھے بتائے بغیر نہ کرتے۔حقیقی معنوں میں مجھے میرے تمام حقوق سے زیادہ دیا۔بہت یاد آتی ہے اُن کی۔زندگی ادھوری ہوگئی ہے۔مگر میں ہر پل اُن کی مغفرت کی دُعا کرتی ہوں اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی ہوں۔اللہ پاک سے دعا گو ہوں کہ مجھے اور میرے سب بچوں کو اللہ تعالیٰ صبر جمیل عطا فرمائے۔اور ہر اُس نیکی کو کرنے کی توفیق دے جو سامی صاحب کرنا چاہتے تھے۔آمین۔کیسے بھول سکتی ہوں میں وہ گھڑی جب وفات سے تھوڑی دیر پہلے آپ نے کہا تھا آج میں اللہ کے حضور حاضر ہونے والا ہوں۔وہ لمحہ، وہ گھڑی ، وہ منگل کا دن۔آٹھ بج کر پندرہ منٹ اکتیس جولائی ۲۰۰۱ ء ہماری جدائی کی شام، نہ بھولنے والی کھوں بھری شام نہیں بھول پاؤں کی بھی نہیں کبھی بھی نہیں۔سامی صاحب کی بہت خواہش تھی کہ میرا جنازہ حضور خلیفہ امسیح الرابع" پڑھا ئیں۔الحمدللہ۔اللہ تعالیٰ نے اُن کی یہ آرزو بھی پوری کر دی۔آپ کے لیے ہر پل دُعا کرتی ہوں۔اللہ تعالیٰ آپ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور میرا بھی انجام بخیر ہو۔آمین ثم آمین۔بیماری کے دوران بہت ہی خاموش رہتے تھے۔میں اُن کو کہتی جب ہم آپ کے پاس نہیں ہوتے تو آپ کچھ لکھا کریں (میں جانتی تھی کہ اُن کے پاس لکھنے کی ہمت بھی نہیں تھی ) میرے بار بار (166)