میری پونجی — Page 165
زبان پر نہیں لائے۔تین ماہ پندرہ دن کی بیماری بہت تحمل سے گزاری۔کسی تکلیف کا اظہار نہیں کرتے تھے۔پہلے ہی کم بولتے تھے مگر اب تو بالکل خاموش ہو گئے۔کمزوری حد سے بڑھ گئی تھی۔جب بھی ملنے جاتی پہلا سوال اُن کا یہ ہوتا۔مسجد کی کوئی خبر ؟ حضور کا کیا حال ہے؟ سب دوست احباب کا پوچھتے۔جب میں اُن کو بتاتی کے سب لوگ آپ کے لیے دعائیں کرتے ہیں تو آبدیدہ ہو جاتے۔وفات سے دو دن پہلے اشارہ سے مجھے اور میرے بیٹے عکاشہ کو بلا یا ہم دونوں نے کان اُن کے منہ کے پاس کئے تو خواب سنائی کہ ابھی ابھی دیکھا ہے حضرت مصلح موعود اور میرے ابا جی مجھے لینے کے لیے آئے ہیں۔آپ سب نے صبر سے کام لینا ہے۔آنسو قدرتی بات ہے مگر پھر بھی صبر کو ہاتھ سے نہیں جانے دینا، صبر کرنا۔اور ہم نے خدا تعالیٰ کے فضل سے صبر سے ہی کام لیا۔آج جو میں یہ سب لکھ رہی ہوں، یہ میر اماضی بن کر رہ گیا ہے۔کاش کہ میرے بس میں ہو تو ان یادوں اور باتوں کو پنجرے میں بند کر لیتی۔جب وقت گزر رہا ہوتا ہے تو وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا کہ یہ ماضی بن کر پیچھا کرتارہے گا۔وہ دن بہت اچھے تھے ، سب ساتھ تھے۔یوں محسوس ہوتا تھا کہ بس یہ ہی زندگی ہے اور ہمیشہ ایسے ہی چلتی رہے گی۔آج اس حسین خواب کو گزرے سالوں بیت گئے ہیں۔اب یہ بہت پرانی یادیں اور باتیں لگتی ہیں۔کبھی لگتا ہے کہ یہ گزری ہوئی زندگی ایک خواب تھی یا اب خواب ہے، اور آنکھ کھلے تو سب ویسا ہی ہو جائے۔سامی ہم سے جدا ہو گئے۔سامی نام تھا محبت کا ، شفقت کا ، رحمدلی کا، فرمانبردار بیٹے ، پیار کرنے والے بھائی شفیق باپ، اور بہترین خاوند کا۔اُنکی کون کون سی خوبی بیان کروں۔ہر ضرورت مند کی ضرورت پوری کرنا اپنا فرض سمجھتے تھے۔کوئی کام کہے جب تک وہ کر نہیں لیتے اُن کو چین نہیں آتا تھا۔دوسروں کے کام آنا ہی اُن کی زندگی کا مقصد تھا۔دادا، نانا بن کر بہت خوش تھے۔اپنے پوتوں نواسے نواسیوں سے بے حد پیار تھا، بچوں سے بھی بہت احترام سے بات کرتے تو اور تم لفظ اُن کو۔(165)